انسان دوست وبلاگ :۱۵ جون ۲۰۱۲ ء۔ کان الناس امة واحدة فبعث اللّٰہ النبیین مبشرین و منذرین و انزل معھم الکتب بالحق لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ من بعد ماجآء تہم البینٰت بغیا بینھم فھدی اللّٰہ الذین ٰامنوا لما اختلفوافیہ من الحق باذنہ وا للّٰہ یھدی من یشآء الیٰ صراطٍ مستقیم۔ … ﴿سورہ بقرہ،آیت ٢١٣﴾
"سب لوگ ایک ہی امت تھے( ان میں اختلاف رونما ہوا) تو اللہ نے بشارت دینے والے اور تنبیہ کرنے والے انبیاء بھیجے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا فیصلہ کرے اور اختلاف بھی ان لوگوں نے کیا جنہیں کتاب دی گئی تھی حالانکہ ان کے پاس صریح نشانیاں آچکی تھیں یہ صرف اس لیے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے پس اللہ نے اپنے اِذن سے ایمان لانے والوں کو اس امرِ حق کا راستہ دکھایا جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے "۔
خداوند تبارک و تعالی نے انسان کی سعادت اور نجات کے لئے انتہائی خوبصورت اور جامع نظام مقرر فرمایا ہے۔ دین ،انسانی ہدایت کے لئے اسی الہٰی جامع نظام کا دوسرا نام ہے، خداوند تعالی نے انبیاء و رسلؐ کو مبعوث فرمایا آسمانی کتب نازل کیں۔ حیات بشری کے لئے اصول وضوابط اور حدود مقرر کیے، انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والے عوامل کی نشاندہی فرمائی اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے انسان کو مناسب آگاہی اور معرفت عطا فرمائی ۔
خداوند متعال نے انسانی سعادت اور نجات کے اصولوں میں سے وحدت کو ایک بنیادی ضابطے کے طور پر ذکر فرمایا ہے اور اختلاف و تفرقہ کو انسان کی ہلاکت کا سبب قراردیا ہے ۔
قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے۔واعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعا و لا تفرقوا واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم أعدآئً فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا وکنتم علیٰ شفا حفرة من النار فانقذکم منہا کذلک یبین اللہ لکم ٰایٰتہ لعلکم تھتدون…﴿سورہ آل عمران ،آیت١٠٣﴾
"خدا کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو اور تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تب خدا نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو اللہ کی اس نعمت کے طفیل تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے جبکہ اس سے پہلے تم تفرقہ و اختلاف کی وجہ سے آگ کے دھانے جا پہنچے تھے خدا نے تمہیں اس سے نجات عطا کی اس طرح اللہ اپنی آیات کو کھول کر تمہارے لئے بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو"۔
انہی قرآنی دستورات کی روشنی میں قائد
ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ
سیدساجدعلی نقوی نے قائدشہیدسے عہد کیا تھا کہ مرتے دم تک آپ کی اس مذہبی، سیاسی اوراجتماعی وقومی جماعت
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کی
طرف سے اتحاد ووحدت کی اٹھائی گئی آواز کی حفاظت کروں گا اگر آپ کی اس امانت کی حفاظت میں چاہے مجھے سختیاں،تلخیاںسہنی پڑیں، اسیری
وقیدخانوں کی صعوبتیں آزارواذیتیں دیکھنی پڑیں یااس عظیم ذمہ داری کو پورا کرنے میں زبانوں کے
تیرونشتربرداشت کرنے پڑے یا
کسی قریبی ساتھی اورعزیزکی قربانی دینی پڑی تواس کے لئے بھی ہمہ وقت تیارو آمادہ رہوں گالیکن آپکا یہ اٹھایاہوا اتحادو وحدت کا علم
نہ جھکا ہے اور نہ جھکنے دونگا۔
قائدشہیدکی شہادت کے بعدپشاور میں علمائے کرام نے
تحریک نفاذفقہ جعفریہ کے آئینی اداروں سپریم کونسل اور مرکزی کونسل کے ذریعے ۴ ستمبر۱۹۸۸ ء کوحضرت علامہ سیدساجدعلی
نقوی کو ملت جعفریہ کا سربراہ اور قائدمنتخب کیا۔﴿تحریک جعفریہ پاکستان،تعارف ،کارکردگی،وضاحت صفحہ ۴ ﴾اس دن سے لے کر آج تک قائدشہیدکی راہ کے راہی ہیں اوراسی ہدف ومقصدکے تحت ملک کی سالمیت ،قومی
وقارکی سربلندی اوراپنے مکتب
کے دفاع میں عظیم کامیابیاں حاصل کیں جن کوبیان کرنے کے لئے مستقل کتاب کی ضرورت ہے ۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے وحدت و اخوت اور اتحاد بین المسلمین کے سنہری اصولوں پر عمل جاری رکھتے ہوئے پاکستان کی مذہبی و دینی جماعتوں سے اپنے تعلقات کو مستحکم کیا ہے۔اعلامیہ وحدت،علماء فورمز،اتحاد بین المسلمین کمیٹی، ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارمز کے قیام میں موثر کردار ادا کر کے اور اس کے ساتھ پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے لئے بننے والے فورمز،تنظیموں اور اتحادوں میں انھوں نے شرکت کر کے ثابت کر دیا کہ ہم مسلمانوں میں انتشار نہیں بلکہ وحدت و اخوت اور امن و محبت کے خواہاں ہیں۔انہوں نے نظریہ وحدت کو عملی جامہ پہنایا۔ان کے اس کردار سے جہاں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور عوام الناس ملت جعفریہ کے مزید قریب تر ہوئے وہاں فرقہ پرست اور مذہبی دہشت گرد گروہوں کی حوصلہ شکنی ہوئی اور تمام مکاتب فکر نے انہیں مسترد کر دیا۔حتی کہ تحریک نے عزاداری سیدالشہدا ؑ کے سلسلے میں بھی "ملی یکجہتی کونسل "اور "متحدہ مجلس عمل" کے پلیٹ فارمز سے استفادہ کیا۔ اس سلسلے میں مزید مطالعہ کیلئے راقم کے لکھے گئے مقالہ "ملت جعفریہ پاکستان کی اتحاد و وحدت کیلئے کوششیں" کی طرف رجوع کیا جائے۔
شہید حسینی سیاسی اور ذاتی حوالے سے مولانا فضل الرحمن سے کافی محبت اور اعتماد کے خواہاں تھے۔﴿ تسلیم رضا خان ،سفیر نور صفحہ ۱۹۲ ﴾ قائد شہید کی زندگی میں جب ڈیرہ اسماعیل خان کے روٹ کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس سنگین مسئلہ کے حل کیلئے ڈیرہ اسماعیل خان کا ڈپٹی کمشنر آپ کے پاس پہنچا اور گزارش کی کہ علامہ صاحب آپ ڈیرہ کے مسئلہ میں ہماری مدد فرمائیں تا کہ شیعہ سنی کشیدگی کا خاتمہ ہو۔ آپ نے واضح جواب دیا کہ یہ مسئلہ علاقائی بھی ہے لہذا وہاں کے مسلمانوں کو چاہیے اس مسئلہ کا حل تلاش کریں ۔ آپ نے یہ بات کہہ کر ڈی۔سی کے رونگٹے کھڑے کر دئیے کہ مجھے مولانا فضل الرحمن صاحب پر اعتماد ہے وہ اس معاملہ میں جو فیصلہ کریں گے ہم اس کا احترام کریں گے۔﴿ تسلیم رضا خان، سفیر نور ۱۷۶ ،اشاعت دوم ۱۹۹۸ ء﴾
یہ وہ وقت تھا کہ جب ملت جعفریہ کے ساتھ اعلی ٰ سطح پر کوئی جماعت بیٹھنے کو تیار نہ تھی تو ہمارے رہنماء چھوٹی سطح کے علماء سے مل کر کانفرنسز کا انعقاد کرتے رہے اور پاکستانی عوام کو اتحاد و وحدت کا شعور دینے کی کوششیں کیں۔ بالآخر قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی انتھک کوششوں کی وجہ سے وہ وقت آیا کہ جن کے بارے شہید حسینی نے فرمایا تھا وہی شخصیت وقت گزرنے کے بعد ہماری موجودہ قیادت کے بارے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئی ہے۔یہ وہ سفر ہے جو شیعہ قیادت نے اتحاد و وحدت کیلئے طے کیا ہے۔ جس کی وضاحت درج ذیل ہے ۔
۷ فروری ۲۰۰۷ ء کو علامہ سید ساجد علی نقوی کی میزبانی میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہی اجلاس کا جامعۃالمنتظر لاہور میں انعقاد، ایم ایم اے کے جنرل سیکرٹری اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن سےذرائع ابلاغ کے سوالات، ایم ایم اے میں اختلاف کے حوالے سے کہا کہ "یہ اجلاس علامہ ساجد علی نقوی صاحب نے بلایا ہے وہ ہمارے بزرگ ہیں ہماری جو رہنمائی وہ کریں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔ ایم ایم اے مضبوط ہے اسے ٹوٹنے نہیں دیں گے"۔ ﴿حسن مرتضیٰ ، شہید راہ وحدت علامہ حسن ترابی شہید صفحہ ۸۶ ﴾ بینظیر بھٹو مرحومہ کی تعزیت و فاتحہ خوانی کیلئے قائد ملت جعفریہ پاکستان گڑھی خدا بخش لاڑکانہ تشریف لے گئے جب وہاں پہنچے تو مولانا سمیع الحق صاحب روانہ ہو رہے تھے تو قائد ملت سے ان کی ملاقات ہو گئی اسی دوران قائد ملت نے ان سے کہا کہ مولانا آپ کی جگہ متحدہ مجلس عمل میں ہے تو انہوں نے جواب دیا "میں وہاں ساجد نقوی کی خاطر تو آسکتا ہوں لیکن کسی اور کیلئے نہیں"۔ ﴿ملاقات کی سی ڈی سے اقتباس﴾
اہل حدیث کے قائد علامہ احسان الہی ظہیر نے شریعت بل کے مسئلہ پر ضیاء حکومت کے خلاف قیام کر کے اپنی قائدانہ صلاحیتوں ،شعلہ بیاں تقاریر اور دلائل کی بدولت نہ صرف حکومت کو ناکوں چنے چبوائے بلکہ اسی تحریک میں انہوں نے اپنی بکھری ہوئی اہلحدیث کی طاقت کو یکجا کرنے اور متحرک کرنے کا معرکہ بھی سر کر لیا۔علامہ احسان الہی ظہیر کا آمریت کے خلاف بے باک رہنماء کی حیثیت سے آگے آنا بھی آمر حکمرانوں کیلئے ناقابل برداشت امر تھا۔اس لئے انہیں ۲۳ مارچ ۱۹۸۶ ء کو قلعہ لچھمن سنگھ لاہور کے ایک جلسہ میں بم کا نشانہ بنایا گیا۔یہ قتل اس وقت ہوا جب شریعت بل کی جنگ عروج پر تھی اور فرقہ واریت کا اژدھا پھن پھیلائے ملکی استحکام کو نگلنے کی کوشش میں تھا۔ اس قتل سے حکمرانوں نے جہاں ایک مضبوط مخالف سے اپنی جان چھڑائی وہاں یہ قتل ملت جعفریہ کے کھاتے میں ڈالنے کی بھر پور کوشش بھی کی تا کہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا ملے ۔ پھروہی ہوا جس کا منصوبہ اسلام دشمن طاقتوں نے بنایا ہوا تھا کہ اس کا اثر چند اہل حدیث برادران پر ہوا کہ جمعیت اہل حدیث کے نئے قائد پروفیسر ساجد میر جیسے دانشور نے بھی ملت جعفریہ پر اس قتل کا الزام عائد کر دیا۔﴿ تسلیم رضا خان ،سفیر نور صفحہ ۱۶۴ ۔۱۶۵ ﴾
شہید حسینی نے لاہور میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے برملا فرمایا کہ "علامہ احسان الہی ظہیر اور ان کے رفقاء کے بہیمانہ قتل میں ملت جعفریہ کے کسی رکن کا تعلق نہیں ۔یہ مہذب افراد کی کاروائی نہیں بلکہ آمر کا انداز ہے"۔آپ نے مزید فرمایا کہ "شریعت بل کے مسئلہ پر علامہ سید ساجد علی نقوی سے علامہ صاحب﴿ احسان الہی﴾ کی ملاقات ہمارے لئے حوصلہ افزاء ثابت ہوئی تھی ہماری اس ہم آہنگی سے جہاں ہمیں شریعت بل کے خلاف متحد ہونے کا اطمینان تھا وہاں مستقبل میں فرقہ واریت کے ختم ہونے کی امید بھی تھی"۔ ﴿سفیر نور صفحہ ۱۶۴ ﴾
علامہ احسان الہی ظہیر کے قتل کی وجہ سے ملت جعفریہ کے بارے جمعیت اہل حدیث کے رہنماؤں میں غلط شکوک وشبہات پیدا ہو گئے۔ اور ان دونوں کے درمیان کافی حد تک فاصلہ آ گیا۔یہ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی بے بہا محنتوں،تدبر اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ متحدہ مجلس عمل میں جمعیت اہل حدیث ملت جعفریہ کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر بیٹھی نظر آئی ہے۔ پاکستان کے معروف اور معتبر تجزیہ نگاروں نے ملت جعفریہ کی قیادت کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔
چنانچہ جناب عطا ءالحق قاسمی کے معروف کالم "روزن دیوار" سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے
"میں اس موقع پر مولانا شاہ احمد نورانی اور علامہ ساجد نقوی کو خصوصی طور پر ان کی بردباری اور معاملہ فہمی اور پاکستان دوستی پر مبارک باد دیتا ہوں اس امر کی تفصیل میں جانا سود مند نہیں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ متحدہ مجلس عمل میں شامل باقی جماعتوں کو ان بزرگوں کی وسیع الظرفی کی ہمیشہ قدر کرنا چاہیے کہ کالے صاحبوں کو استعمار کے خلاف مختلف الخیال علماء کے ایک بینر تلے جمع ہونے کا بھی بہت زیادہ دکھ ہے"۔
روزنامہ جنگ کے تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے تجزیے "الیکشن ۲۰۰۲ ء کے حقائق۔۔۔ اعداد و شمار کی زبانی" کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔
"کبھی اکٹھے نہ ہونے والے مذہبی رہنما اتحاد میں کیسے اکٹھے چل رہے ہیں یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آسان نہیں لیکن اس اتحاد اور مذہبی جماعتوں کے لیڈرز میں انڈرسٹینڈنگ پیدا کرنے میں قاضی حسین احمد نے نمایاں کردار ادا کیا ۔ مولانانورانی کی بزرگی ، مولانا سمیع الحق کی برجستگی، ساجد نقوی کی دلیری اور مولانا فضل الرحمن کی سیاسی تربیت نے انہیں ایک ٹیم بنا دیا ہے۔ سفروحضر میں اکٹھے رہنے سے ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا ،ایک دوسرے سے ذاتی تعلقات بنتے گئے،نماز اکٹھے اور باجماعت پڑھنے کیلئے یہ خاموش انڈر سٹیڈنگ ہو گئی کہ مولانا نورانی امامت کریں گے توسب ان کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے بڑے شہروں میں جماعت اسلامی کی تنظیم اور دفاتر کام میں لائے گئے غرضیکہ پہلی بار مذہبی لیڈر اکٹھے ہو گئے اور بقول قاضی حسین احمد اتحاد کی ہی برکت ان کے جیتنے کا سبب بن گئی"۔ علامہ سید ساجد علی نقوی کی گرفتاری کے سلسلے میں متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنماء اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے بیان دیا کہ "مولانا اعظم طارق کے قتل کے حوالے سے کالعدم سپاہ صحابہ کی طرف سے اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ ساجد نقوی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے معاملہ میں متحدہ مجلس عمل اسلامی تحریک کا ساتھ دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ کی قیادت کو مشورہ دونگا کہ وہ اپنا کیس خراب نہ کریں ۔ اصلی ملزم تلاش کیجئے۔ جو مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں یہ ہی ہاتھ ہے پس پردہ ملک کے حالات خراب کرنا چاہتا ہے کالعدم سپاہ صحابہ علامہ ساجد نقوی کے بجائے اصلی قاتلوں کا پتہ لگانے کی کوشش کرے۔ ایم ایم اے بھر پور کوشش کرے گی کہ اس میں شامل تمام جماعتیں متحد رہیں ہم علامہ ساجد نقوی کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی رواداری کا جو ماحول ہم نے بہت محنت سے قائم کیا ہے اسے بچانے کی بھر پور کوشش کریں گے"۔﴿۱ اکتوبر ۲۰۰۳ ء روزنامہ جنگ کراچی﴾
متحدہ مجلس عمل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے بطور گواہ صفائی عدالت میں اعظم طارق قتل کیس کے حوالے سے واضح طور پر کہا کہ "یہ کیس سازش ہے اس میں علامہ ساجد نقوی کو ناجائز طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ ہم نے پارلیمنٹ،پریس اور جلسوں کے فورمز پر یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ اس کیس میں علامہ ساجد نقوی کو ملوث کرنا نہ صرف مجلس عمل بلکہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف سازش ہے۔ علامہ ساجد نقوی بے گناہ ہیں اور ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے"۔﴿ ینگ لائرز فورم راولپنڈی،اعظم طارق قتل کیس، صفحہ ۹ ﴾
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کے ایک انٹرویو کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔
اسلام ٹائمز: قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی کے ساتھ
آپ نے بھی متحدہ مجلس عمل میں کام کیا ہے، ایک اہل سنت لیڈر کے طور پر آپ نے انہیں
کس طرح کا لیڈر پایا ہے۔؟
ڈاکٹر ابوالخیرمحمد زبیر: دیکھیں
متحدہ مجلس عمل میں جتنے قائدین ہیں، ان کا ایم ایم اے میں آنا ہی اس بات کا ثبوت
ہے کہ ان کے اندر قوت برداشت اور tolerance ہے اور وہ ملک کے اندر ہم آہنگی اور اتحاد چاہتے ہیں۔ تمام
مسالک کے لوگوں کو قریب لانے اور ملک میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں علامہ ساجد علی
نقوی کا کلیدی کردار ہے۔ بڑے بڑے اہم مراحل متحدہ مجلس عمل کے اندر آئے۔ بڑے شدید
حملے اور دیگر واقعات ہوئے۔ شیعہ سنی اختلافات بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن
الحمداللہ علامہ ساجد علی نقوی نے دوسرے قائدین کے ساتھ مل کر جس طرح مشتعل جذبات
کو قابو میں کیا، وہ لائق تحسین ہے اور ان کی وجہ سے ہم آہنگی کی فضا ملک میں قائم
ہے۔﴿ اسلام ٹائمز، انٹر ویو ڈاکٹر
ابوالخیر محمد زبیر﴾
دشمن جب غلیظ
وتکفیری نعروں ، ٹیبل ٹاک اورقانونی میدانوں میں مفلوج
ہوکررہ گیاتواس نے علمی وفکری
ہماری قوم کے خلاف نہ رکنے والاقتل
کاسلسلہ جو قائدشہیدکے زمانے سے ہی
شروع ہواتھااورملکی وغیرملکی قوتوں کے پس پشت ہونے کی وجہ سے انہیں مزید تقویت ملی ان کی اس مکروہ کاروائی میں روزبہ روزشدت آتی رہی جواس ملک
وملت کے لئے زہرقاتل تھا
۔
مگر قائدملت جعفریہ نے اپنی تیزبین
نگاہوں سے ملک وملت کے مفادمیں صبرحسینیؑ
اورحکمت حسنی ؑسے کام لیتے ہوئے ہمیشہ اپنے مثبت اورقانونی اقدامات جاری رکھے جوآج تک جاری ہیں۔اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ سربراہی
ملاقاتیں،مراسلے، یاد
داشتیں، وفودکی ملاقاتیں اورخطابات وغیرہ کے
ذریعے حکومت ،عدلیہ ،پاک فوج کوباورکرایا جاتا رہا کہ اس خطرناک سلسلے کوروکاجائے ۔ آپ کی
ان کوششوں سے دشمن مزیدبدنام
ہوااورپاکستان کے تمام طبقات میں تشیع کو ہی سربلندی نصیب ہوئی۔قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی حکمتِ عملی نے کالعدم سپاہ صحابہ کے مرکزی جنرل سیکرٹری
خادم حسین ڈھلوں کو اپنی شکست کا اقرار کچھ یوں کرایا :
اے پی سی میں نہ بلایاجاناافسوسناک ہے۔ سپاہ صحابہ کے ترجمان خادم ڈھلوں
اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) اپنی حب الوطنی کیلئے کسی سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں لیکن سپاہ صحابہ کی طرح تحریک جعفریہ بھی ایک کالعدم جماعت ہے وزیراعظم سیکرٹریٹ کاامتیازی سلوک قابل قبول نہیں ان خیالات کااظہاراہلسنت والجماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں نے مرکزاہلسنت اسلام آباد میں ایک ہنگامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاسپاہ صحابہ پرپابندی سابق ڈکٹیٹر نے لگائی تھی جسے ہم نے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کررکھاہے اوریہ بات ریکارڈ پرموجودہے کہ اہلسنت والجماعت نے ملک میں قیام امن کیلئے جوجدوجہدحالیہ دورمیں کی ہے کوئی بھی ادارہ یاحکومت اس سے انکارنہیں کرسکتالیکن ملک میں یکجہتی کے فروغ ،استحکام اور نامساعدعالمی حالات پرحکومتی سطح پرمنعقدہونے والی اے پی سی میں ہماری جماعت کودیوارسے لگانے کی کوششیں بھی ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں ، ہم اے پی سی کے انعقادسے قبل ہی اس کے فیصلوں کی بھرپورتائیدکرتے ہیں لیکن ہم عوام کوبتاناچاہتے ہیں کہ ایک کالعدم جماعت کے سربراہ ساجدنقوی کودعوت دیکراوردوسری کالعدم جماعت کے سربراہ علامہ احمدلدھیانوی کونہ بلاکروزیراعظم سیکرٹریٹ سے حالات کوجس رخ پردھکیلنے کااقدام کیاجارہاہے وہ نامناسب بھی ہے اورہمارے لئے ناقابل برداشت بھی۔ ﴿روز نامہ ایکسپریس، اسلام آباد ۲۹۔۰۹ ۔۲۰۱۱﴾
سپاہ صحابہ
کے ترجمان خادم ڈھلوں کایہ بیان اتنامضحکہ خیزہے کہ جس کاجواب وزیر اعظم تو کیا
پاکستان کی معمولی معلومات رکھنے والاہربچہ بھی آسانی سے دے سکتا ہے کہ سپاہ صحابہ
کی حقیت کیاہے اورکتنی محب وطن جماعت ہے اورآج مملکت خدادادپاکستان میں ملک اسحاق
کیاکررہا ہے؟؟
ڈھلوں صاحب کویہ بھی معلوم ہوناچاہئے کہ تحریک جعفریہ جیسی مسلمہ
جماعت کوسپاہ صحابہ کے برابرسمجھنے کاخیالی پلاؤ کب کاسڑ چکا ہے،جس کی بدبوسے ہرپاکستانی
بیزارہے
تاہم علامہ ساجدعلی نقوی پاکستانی قوم میں بلا تفریق ہردل عزیزسیاسی لیڈرکے
طورپرپہچانے جاتے ہیں اورانہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ٹائٹل پردعوت دی گئی تھی۔
ماضی قریب کی تاریخ میں تو سپاہ صحابہ کے مقتول ایم این اے اعظم طارق کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اسمبلی کے اندر اور باہر مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد نے اس سے ملنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور وہ مولانا فضل الرحمن کے گھر کے باہر کافی وقت انتظار کرتا رہا لیکن اسے ملنے کی اجازت نہیں ملی۔﴿ اظہار بخاری، کالم ،محترم سلیم صافی صاحب﴾قارئین محترم یہ کس کی دور اندیش پالیسیوں کا نتیجہ ہے؟
جمعیت علمائے پاکستان نے مذہبی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم "دفاع پاکستان کونسل "سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعیت
علمائے پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اراکین نے کونسل میں کسی بھی شیعہ
جماعت کی عدم شرکت اور کالعدم جماعتوں کی شرکت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا
ہے کہ ہم ایسے کسی پلیٹ فارم میں شامل نہیں ہو سکتے جس میں اہل تشیع کو نمائندگی
نہ دی گئی ہے۔ اراکین عاملہ نے کہا کہ اہل تشیع بھی مسلمان اور پاکستانی ہیں اور
پاکستان سے اہل تشیع کی محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن دفاع پاکستان کے نام پر
بننے والے اس اتحاد میں اہل تشیع کو نظرانداز کر دیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ
اس کونسل کے مقاصد کچھ اور ہی ہیں، جس پلیٹ فارم پر فرقہ واریت کے فروغ کی بو آتی
ہو اس میں جمعیت علماء پاکستان کو کسی طور بھی شریک نہیں ہونا چاہیے۔
اس حوالے سے جمعیت کے مرکزی سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر کا کہنا ہے کہ دفاع
پاکستان کونسل میں ہمیں شرکت کی دعوت دینے سے قبل بتایا گیا تھا کہ اس میں تمام
مذہبی جماعتیں شامل ہیں، لیکن جب ہم نے دیکھا تو اس میں اہل تشیع مسلمانوں کی
نمائندگی نہیں بلکہ ایسی جماعتوں کو بہت زیادہ پروٹوکول دیا گیا جو ماضی میں
دہشتگردی اور قتل و غارت میں ملوث رہی ہیں اور کالعدم قرار دی جا چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایسے کسی بھی پلیٹ فارم کا حصہ نہیں بن سکتے جہاں گروہ بندی کو
فروغ دیا جاتا ہو یا ملک کو کمزور کرنے کی سازشیں کی جاتی ہوں، اس لئے ہماری جماعت
نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس پلیٹ فارم سے علیحدگی کا اعلان کر دیں۔ انہوں نے کا کہا
کہ پاکستان کا دفاع کیسے کرنا ہے یہ ہم جانتے ہیں، ہمیں ایسے لوگوں کی رہنمائی کی
ضرورت نہیں، جو قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے شدید مخالف اور قائداعظم کو کافر
اعظم کہتے تھے۔﴿اسلام ٹائمز ، www.islamtimes.org﴾
اسلام امن و سلامتی اور بھائی چارے کا دین ہے ۔ یہ اپنے ماننے والوں کو اخوت، برابری، بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔ نبی آخر الزمان نے بارہا مسلمانوں کو پیار، محبت اور امن و امان سے زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ ہمارے اس بیان کی تائید یہ حدیث مبارکہ کرتی ہے:
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے تمام مسلمان محفوظ رہیں "۔ اگر مسلمان کی یہ تعریف ہے تو پھر علامہ ساجد نقوی سب سے بڑے مسلمان ہیں۔
کچھ چیزیں اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں، ان میں سب سے بنیادی چیز کج فہمیاں اور ایک دوسرے کی نسبت عدم معلومات ہیں، دوسرے کا حال تک پتہ نہیں، لیکن ایک دوسرے سے بدگمانی کرتے ہیں، ایک دوسرے کے عقائد و افکار کے سلسلہ میں غلط فہمی پیدا کرتے ہیں، شیعہ سنی کے سلسلہ میں، سنی شیعہ کے سلسلہ میں، ایک مسلم قوم دوسری مسلم قوم کے سلسلہ میں، ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کے سلسلہ میں، غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے، دشمن ان غلط فہمیوں کا بہت زیادہ سہارا لیتے ہیں، افسوس کہ کچھ لوگ اسی غلط فہمی اور دشمن کی عمومی پالیسی کو نظرانداز کرنیکے نتیجہ میں دشمن کے ہاتھ کا کھلونہ بن جاتے ہیں اور دشمن ان کو استعمال کرتا ہے، بعض دفعہ کوئی چھوٹا سا جذبہ انسان کو کوئی بات کہنے یا کوئی مؤقف اختیار کرنے پر اکساتا ہے اور دشمن اپنی جامع پالیسی میں اسی بات کا فائدہ اٹھا کر بھائیوں کے درمیان خلیج بڑھا دیتا ہے ۔
۱۴ جون ۲۰۱۲ء
dir=font-size: 14.0pt; font-family:/spanFA 22/spanspan lang=2/h1/span/fontspan lang= fontfontFAfont-size:14.0pt; font-family:span lang=

























