X
تبلیغات
تحریک جعفریہ پاکستان
تحریک جعفریہ پاکستان
تحریک جعفریہ پاکستان کا اجمالی تعارف

 انسان دوست وبلاگ :۱۵  جون ۲۰۱۲ ء۔  کان الناس امة واحدة فبعث اللّٰہ النبیین مبشرین و منذرین و انزل  معھم الکتب بالحق لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ من بعد ماجآء تہم البینٰت  بغیا بینھم فھدی اللّٰہ الذین ٰامنوا لما اختلفوافیہ من الحق باذنہ   وا للّٰہ یھدی من یشآء الیٰ صراطٍ مستقیم۔ … ﴿سورہ بقرہ،آیت ٢١٣

"سب لوگ ایک ہی امت تھے( ان میں اختلاف رونما ہوا) تو اللہ نے بشارت دینے والے اور تنبیہ کرنے والے انبیاء بھیجے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا فیصلہ کرے اور اختلاف بھی ان لوگوں نے کیا جنہیں کتاب دی گئی تھی حالانکہ ان کے پاس صریح نشانیاں آچکی تھیں یہ صرف اس لیے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے پس اللہ نے اپنے اِذن سے ایمان لانے والوں کو اس امرِ حق کا راستہ دکھایا جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے "۔ 

 خداوند تبارک و تعالی نے انسان کی سعادت اور نجات کے لئے انتہائی خوبصورت اور جامع نظام مقرر فرمایا ہے۔ دین ،انسانی ہدایت کے لئے اسی الہٰی جامع نظام کا دوسرا نام ہے، خداوند تعالی نے انبیاء و رسلؐ  کو مبعوث فرمایا آسمانی کتب نازل کیں۔ حیات بشری کے لئے اصول وضوابط اور حدود مقرر کیے، انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والے عوامل کی نشاندہی فرمائی اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے انسان کو مناسب آگاہی اور معرفت عطا فرمائی ۔

خداوند متعال نے انسانی سعادت اور نجات کے اصولوں میں سے وحدت کو ایک بنیادی ضابطے کے طور پر ذکر فرمایا ہے اور اختلاف و تفرقہ کو انسان کی ہلاکت کا سبب قراردیا ہے ۔

قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے۔واعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعا و لا تفرقوا واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم أعدآئً فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا وکنتم علیٰ شفا حفرة من النار فانقذکم منہا کذلک یبین اللہ لکم ٰایٰتہ لعلکم تھتدون﴿سورہ آل عمران ،آیت١٠٣﴾

"خدا کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو اور تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تب خدا نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو اللہ کی اس نعمت کے طفیل تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے جبکہ اس سے پہلے تم تفرقہ و اختلاف کی وجہ سے آگ کے دھانے جا پہنچے تھے خدا نے تمہیں اس سے نجات عطا کی  اس طرح اللہ اپنی آیات کو کھول کر تمہارے لئے بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو"۔

    انہی قرآنی دستورات کی روشنی میں قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی نے قائدشہیدسے عہد کیا تھا کہ مرتے دم تک آپ کی اس مذہبی، سیاسی اوراجتماعی وقومی جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان  کی طرف سے اتحاد ووحدت کی اٹھائی گئی آواز کی حفاظت کروں گا اگر آپ کی اس امانت کی حفاظت میں چاہے مجھے سختیاں،تلخیاںسہنی پڑیں، اسیری وقیدخانوں کی صعوبتیں آزارواذیتیں دیکھنی پڑیں یااس عظیم ذمہ داری کو پورا کرنے میں زبانوں کے تیرونشتربرداشت کرنے پڑے یا کسی قریبی ساتھی اورعزیزکی قربانی دینی پڑی تواس کے لئے بھی ہمہ وقت تیارو آمادہ رہوں گالیکن آپکا یہ اٹھایاہوا اتحادو وحدت کا علم نہ جھکا ہے اور نہ جھکنے دونگا۔
  قائدشہیدکی شہادت کے بعدپشاور میں علمائے کرام نے تحریک نفاذفقہ جعفریہ کے آئینی اداروں  سپریم کونسل اور مرکزی کونسل  کے ذریعے ۴ ستمبر۱۹۸۸ ء کوحضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی کو ملت جعفریہ کا سربراہ اور قائدمنتخب کیا۔﴿تحریک جعفریہ پاکستان،تعارف ،کارکردگی،وضاحت صفحہ ۴ ﴾اس دن سے لے کر آج تک قائدشہیدکی راہ کے راہی ہیں اوراسی ہدف ومقصدکے تحت ملک کی سالمیت ،قومی وقارکی سربلندی اوراپنے مکتب کے دفاع میں عظیم کامیابیاں حاصل کیں جن کوبیان کرنے کے لئے مستقل کتاب کی ضرورت ہے ۔

  قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی  نے وحدت و اخوت اور اتحاد بین المسلمین کے سنہری اصولوں پر عمل جاری رکھتے ہوئے پاکستان کی مذہبی و دینی جماعتوں سے اپنے تعلقات کو  مستحکم کیا ہے۔اعلامیہ وحدت،علماء فورمز،اتحاد بین المسلمین کمیٹی، ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارمز کے قیام میں موثر کردار ادا کر کے اور اس کے ساتھ  پاکستان میں اتحاد بین المسلمین   کے لئے بننے والے فورمز،تنظیموں اور اتحادوں میں انھوں نے شرکت کر کے ثابت کر دیا کہ ہم مسلمانوں میں انتشار نہیں بلکہ وحدت و اخوت اور امن و محبت کے خواہاں ہیں۔انہوں نے  نظریہ وحدت کو عملی جامہ پہنایا۔ان کے اس کردار سے جہاں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور عوام الناس ملت جعفریہ کے مزید قریب تر ہوئے وہاں فرقہ پرست اور مذہبی دہشت گرد گروہوں کی حوصلہ شکنی ہوئی اور تمام مکاتب فکر نے انہیں مسترد کر دیا۔حتی کہ تحریک نے عزاداری سیدالشہدا ؑ کے سلسلے میں بھی "ملی یکجہتی کونسل "اور "متحدہ مجلس عمل" کے پلیٹ  فارمز سے استفادہ کیا۔ اس سلسلے میں مزید مطالعہ کیلئے راقم کے لکھے گئے مقالہ "ملت جعفریہ پاکستان کی اتحاد و وحدت کیلئے کوششیں" کی طرف رجوع کیا جائے۔

  شہید حسینی  سیاسی اور ذاتی حوالے سے مولانا فضل الرحمن سے کافی محبت اور اعتماد کے خواہاں تھے۔﴿ تسلیم رضا خان ،سفیر نور صفحہ  ۱۹۲ ﴾ قائد شہید کی زندگی میں جب ڈیرہ اسماعیل خان کے روٹ کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس سنگین مسئلہ کے حل کیلئے ڈیرہ اسماعیل خان کا ڈپٹی کمشنر آپ کے پاس پہنچا اور گزارش کی کہ علامہ صاحب آپ ڈیرہ کے مسئلہ میں ہماری مدد فرمائیں تا کہ شیعہ سنی کشیدگی کا خاتمہ ہو۔ آپ نے واضح جواب دیا کہ یہ مسئلہ علاقائی بھی ہے لہذا وہاں کے مسلمانوں کو چاہیے اس مسئلہ کا حل تلاش کریں ۔ آپ نے یہ بات کہہ  کر ڈی۔سی  کے رونگٹے کھڑے کر دئیے کہ مجھے مولانا فضل الرحمن صاحب پر اعتماد ہے وہ اس معاملہ میں جو فیصلہ کریں گے ہم اس کا احترام کریں گے۔﴿ تسلیم رضا خان، سفیر نور ۱۷۶ ،اشاعت دوم ۱۹۹۸ ء﴾

یہ وہ وقت تھا کہ جب ملت جعفریہ کے ساتھ اعلی ٰ سطح پر کوئی جماعت بیٹھنے کو تیار نہ تھی تو ہمارے رہنماء چھوٹی سطح کے علماء سے مل کر  کانفرنسز کا انعقاد کرتے رہے  اور پاکستانی عوام کو اتحاد و وحدت کا شعور دینے کی کوششیں  کیں۔ بالآخر قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی انتھک کوششوں کی وجہ سے وہ وقت آیا کہ جن کے بارے شہید حسینی نے فرمایا تھا وہی شخصیت وقت گزرنے کے بعد ہماری موجودہ قیادت کے بارے  اپنے  خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئی ہے۔یہ وہ  سفر  ہے جو  شیعہ قیادت نے اتحاد و وحدت کیلئے طے کیا ہے۔ جس کی وضاحت درج ذیل ہے ۔

  ۷ فروری ۲۰۰۷ ء کو علامہ سید ساجد علی نقوی کی میزبانی میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہی اجلاس کا جامعۃالمنتظر لاہور میں انعقاد، ایم ایم اے کے جنرل سیکرٹری اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن سےذرائع ابلاغ کے سوالات، ایم ایم اے میں اختلاف کے حوالے سے کہا کہ "یہ اجلاس علامہ ساجد علی نقوی صاحب نے بلایا ہے وہ ہمارے بزرگ ہیں ہماری جو رہنمائی وہ کریں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔ ایم ایم اے مضبوط ہے اسے ٹوٹنے نہیں دیں گے"۔ ﴿حسن مرتضیٰ ، شہید راہ وحدت علامہ حسن ترابی شہید صفحہ ۸۶ ﴾                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                             بینظیر بھٹو مرحومہ کی تعزیت و فاتحہ خوانی کیلئے قائد ملت جعفریہ پاکستان  گڑھی خدا بخش لاڑکانہ تشریف لے گئے  جب وہاں پہنچے تو مولانا سمیع الحق صاحب روانہ ہو رہے تھے تو قائد ملت سے ان کی ملاقات ہو گئی اسی دوران قائد ملت نے ان سے کہا کہ مولانا آپ کی جگہ متحدہ مجلس عمل میں ہے تو انہوں نے جواب دیا "میں وہاں ساجد نقوی کی خاطر  تو آسکتا ہوں لیکن کسی اور کیلئے نہیں"۔ ﴿ملاقات کی سی ڈی سے اقتباس﴾

  اہل حدیث کے قائد علامہ احسان الہی ظہیر نے شریعت بل کے مسئلہ پر ضیاء حکومت کے خلاف قیام کر کے اپنی قائدانہ صلاحیتوں ،شعلہ بیاں تقاریر اور دلائل کی بدولت نہ صرف حکومت کو ناکوں چنے چبوائے بلکہ اسی تحریک میں انہوں نے اپنی بکھری  ہوئی اہلحدیث کی طاقت کو یکجا کرنے اور متحرک کرنے کا معرکہ بھی سر کر لیا۔علامہ احسان الہی ظہیر کا آمریت کے خلاف بے باک رہنماء کی حیثیت سے آگے آنا بھی آمر حکمرانوں کیلئے ناقابل برداشت امر تھا۔اس لئے انہیں ۲۳ مارچ ۱۹۸۶ ء کو قلعہ لچھمن سنگھ لاہور کے ایک جلسہ میں بم کا نشانہ بنایا گیا۔یہ قتل اس وقت ہوا جب شریعت بل کی جنگ عروج پر تھی اور فرقہ واریت کا اژدھا پھن پھیلائے ملکی استحکام کو نگلنے کی کوشش میں تھا۔ اس قتل سے حکمرانوں  نے جہاں ایک مضبوط مخالف سے اپنی جان چھڑائی وہاں یہ قتل ملت جعفریہ کے کھاتے میں ڈالنے کی بھر پور کوشش بھی کی تا کہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا ملے ۔ پھروہی ہوا جس کا منصوبہ اسلام دشمن طاقتوں نے بنایا ہوا تھا کہ اس کا اثر چند اہل حدیث برادران پر ہوا  کہ جمعیت اہل حدیث کے نئے قائد پروفیسر ساجد میر جیسے دانشور نے بھی ملت جعفریہ پر اس قتل کا الزام عائد کر دیا۔﴿ تسلیم رضا خان ،سفیر نور صفحہ ۱۶۴ ۔۱۶۵ ﴾

  شہید حسینی نے لاہور میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے برملا فرمایا کہ "علامہ احسان الہی ظہیر اور ان کے رفقاء کے بہیمانہ قتل میں ملت جعفریہ کے کسی رکن کا تعلق نہیں ۔یہ مہذب افراد کی کاروائی نہیں بلکہ آمر کا انداز ہے"۔آپ نے مزید فرمایا کہ "شریعت بل کے مسئلہ پر علامہ سید ساجد علی نقوی سے علامہ صاحب﴿ احسان الہی﴾ کی ملاقات  ہمارے لئے حوصلہ افزاء ثابت ہوئی تھی ہماری اس ہم آہنگی سے جہاں ہمیں شریعت بل کے خلاف متحد ہونے کا اطمینان تھا وہاں مستقبل میں فرقہ واریت کے ختم ہونے کی امید بھی تھی"۔ ﴿سفیر نور صفحہ ۱۶۴ ﴾

علامہ احسان الہی ظہیر  کے قتل کی وجہ سے  ملت جعفریہ کے بارے جمعیت اہل حدیث کے رہنماؤں میں  غلط شکوک وشبہات پیدا ہو گئے۔ اور ان دونوں کے درمیان کافی حد تک  فاصلہ آ گیا۔یہ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی بے بہا محنتوں،تدبر اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ متحدہ مجلس عمل میں جمعیت  اہل حدیث ملت جعفریہ کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر بیٹھی نظر آئی ہے۔                                                                                                                                                                                                    پاکستان کے معروف اور معتبر تجزیہ نگاروں نے ملت جعفریہ کی قیادت کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار  کیا ہے۔

چنانچہ  جناب عطا ءالحق قاسمی کے معروف کالم "روزن دیوار" سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے

"میں اس موقع پر مولانا شاہ احمد نورانی اور علامہ ساجد نقوی کو خصوصی طور پر ان کی بردباری اور معاملہ فہمی اور پاکستان  دوستی پر مبارک باد دیتا ہوں اس امر کی تفصیل میں جانا سود مند  نہیں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ متحدہ مجلس عمل میں شامل باقی جماعتوں کو ان بزرگوں کی وسیع الظرفی کی ہمیشہ قدر کرنا چاہیے کہ کالے صاحبوں کو استعمار کے خلاف مختلف الخیال علماء کے ایک بینر تلے جمع ہونے کا بھی بہت زیادہ دکھ ہے"۔

روزنامہ جنگ کے تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے تجزیے "الیکشن ۲۰۰۲ ء کے حقائق۔۔۔ اعداد و شمار کی زبانی" کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔

"کبھی اکٹھے نہ ہونے والے مذہبی رہنما اتحاد میں کیسے اکٹھے چل رہے ہیں یہ وہ سوال ہے جس کا جواب  آسان نہیں لیکن اس اتحاد اور مذہبی جماعتوں کے لیڈرز میں انڈرسٹینڈنگ پیدا کرنے میں قاضی حسین احمد نے نمایاں کردار ادا کیا ۔ مولانانورانی کی بزرگی ، مولانا سمیع الحق کی برجستگی، ساجد نقوی کی دلیری اور مولانا فضل الرحمن کی سیاسی تربیت نے انہیں ایک ٹیم بنا دیا ہے۔ سفروحضر میں اکٹھے رہنے سے ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا ،ایک دوسرے سے ذاتی تعلقات بنتے گئے،نماز اکٹھے اور باجماعت پڑھنے کیلئے یہ خاموش انڈر سٹیڈنگ ہو گئی کہ مولانا نورانی امامت کریں گے توسب ان کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے بڑے شہروں میں جماعت اسلامی کی تنظیم اور دفاتر کام میں لائے گئے غرضیکہ پہلی بار مذہبی لیڈر اکٹھے ہو گئے اور بقول قاضی حسین احمد اتحاد کی ہی برکت ان کے جیتنے کا سبب بن گئی"۔                                                                                                                                                                                                                                                علامہ سید ساجد علی نقوی کی گرفتاری  کے سلسلے میں متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنماء اور جماعت اسلامی  کے امیر قاضی حسین احمد نے بیان دیا کہ "مولانا اعظم طارق کے قتل کے حوالے سے کالعدم سپاہ صحابہ کی طرف سے اسلامی تحریک  کے سربراہ علامہ ساجد  نقوی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے معاملہ میں متحدہ مجلس عمل  اسلامی تحریک کا ساتھ دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ کی قیادت کو مشورہ دونگا کہ وہ اپنا کیس خراب نہ کریں ۔ اصلی ملزم تلاش کیجئے۔ جو مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں یہ ہی ہاتھ ہے پس پردہ ملک کے حالات خراب کرنا چاہتا ہے کالعدم سپاہ صحابہ  علامہ ساجد نقوی کے بجائے اصلی قاتلوں کا پتہ لگانے کی کوشش کرے۔ ایم ایم اے بھر پور کوشش کرے گی کہ اس میں شامل تمام جماعتیں متحد رہیں ہم علامہ ساجد نقوی کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی رواداری کا جو ماحول ہم نے بہت محنت سے قائم کیا ہے اسے بچانے کی بھر پور کوشش کریں گے"۔﴿۱ اکتوبر ۲۰۰۳ ء روزنامہ جنگ کراچی﴾

  متحدہ مجلس عمل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے بطور گواہ صفائی عدالت میں اعظم طارق قتل کیس کے حوالے سے واضح طور پر  کہا کہ "یہ کیس سازش ہے اس میں علامہ ساجد نقوی کو ناجائز طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ ہم نے پارلیمنٹ،پریس اور جلسوں کے فورمز پر یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ اس کیس میں علامہ ساجد نقوی کو ملوث کرنا نہ صرف مجلس عمل بلکہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف سازش ہے۔ علامہ ساجد نقوی بے گناہ ہیں اور ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے"۔﴿ ینگ لائرز فورم راولپنڈی،اعظم طارق قتل کیس، صفحہ ۹ ﴾

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر   کے ایک انٹرویو کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔

اسلام ٹائمز: قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی کے ساتھ آپ نے بھی متحدہ مجلس عمل میں کام کیا ہے، ایک اہل سنت لیڈر کے طور پر آپ نے انہیں کس طرح کا لیڈر پایا ہے۔؟
ڈاکٹر ابوالخیرمحمد زبیر: دیکھیں متحدہ مجلس عمل میں جتنے قائدین ہیں، ان کا ایم ایم اے میں آنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے اندر قوت برداشت اور tolerance ہے اور وہ ملک کے اندر ہم آہنگی اور اتحاد چاہتے ہیں۔ تمام مسالک کے لوگوں کو قریب لانے اور ملک میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں علامہ ساجد علی نقوی کا کلیدی کردار ہے۔ بڑے بڑے اہم مراحل متحدہ مجلس عمل کے اندر آئے۔ بڑے شدید حملے اور دیگر واقعات ہوئے۔ شیعہ سنی اختلافات بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن الحمداللہ علامہ ساجد علی نقوی نے دوسرے قائدین کے ساتھ مل کر جس طرح مشتعل جذبات کو قابو میں کیا، وہ لائق تحسین ہے اور ان کی وجہ سے ہم آہنگی کی فضا ملک میں قائم ہے۔﴿ اسلام ٹائمز، انٹر ویو ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر﴾

دشمن جب غلیظ وتکفیری نعروں ، ٹیبل ٹاک اورقانونی میدانوں میں مفلوج ہوکررہ گیاتواس نے علمی وفکری دلائل اوربحث کونظراندازکرتے ہوئے اپنے ہاتھ میں اسلحہ لے لیااورشیعیان حیدرکرارکابے دریغ خون بہایاآئے دن شیعہ مساجد امام بارگاہ اوردینی مراکز کودہشت گردی کانشانہ بنایاگیاجس کے نتیجہ میں ملک میں دہشت گردی کاآغاز ہوا۔جس کے نتیجہ میں شیعہ علماء ،خطباء،ذاکرین،  بیوروکریٹ، رہنما، افسران،انجنیئرز، ،وکلاء ، دانشوراور ڈاکٹر حضرات کونشانہ بنایاگیاصرف کراچی کے اندر ١٩٨٥ ء سے ٢٠٠٠ء تک کے دورانیہ میں چودہ سو(١٤٠٠) شہداکے جنازے اٹھائے گئے ملک بھر میں تحریک کے عام کارکن سے لے style= /spanfont size=2font-size:14.0pt; font-family:کراہم عہدیداروں کوفقط محب علیؑ اور تحریک سے وابستگی کے جرم میں شہیدکیاگیااس وقت تک تحریک جعفریہ کے تین مرکزی سیکرٹری جنرل کو شہید کیا گیا پاکستان بھرمیں اس کھلی دہشت گردی کی وجہ سے کئی گھرویران ہوئے، خاندان اجڑے، خواتین بیوہ  ہوئیں اوربچے یتیم ہوئے۔
ہماری قوم کے خلاف نہ رکنے والاقتل کاسلسلہ جو قائدشہیدکے زمانے سے ہی شروع ہواتھااورملکی وغیرملکی قوتوں کے پس پشت ہونے کی وجہ سے انہیں مزید تقویت ملی ان کی اس مکروہ کاروائی میں روزبہ روزشدت آتی رہی جواس ملک وملت کے لئے زہرقاتل تھا ۔
مگر قائدملت جعفریہ نے اپنی تیزبین نگاہوں سے ملک وملت کے مفادمیں صبرحسینیؑ اورحکمت حسنی ؑسے کام لیتے ہوئے ہمیشہ اپنے مثبت اورقانونی اقدامات جاری رکھے جوآج تک جاری ہیں۔اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ سربراہی ملاقاتیں،مراسلے، یاد داشتیں، وفودکی ملاقاتیں اورخطابات وغیرہ کے ذریعے حکومت ،عدلیہ ،پاک  فوج کوباورکرایا جاتا رہا کہ اس خطرناک سلسلے کوروکاجائے ۔ آپ کی ان کوششوں سے دشمن مزیدبدنام ہوااورپاکستان کے تمام طبقات میں تشیع کو ہی سربلندی نصیب ہوئی۔قائد ملت جعفریہ  علامہ سید ساجد علی نقوی کی حکمتِ عملی نے کالعدم سپاہ صحابہ کے مرکزی جنرل سیکرٹری خادم حسین ڈھلوں کو  اپنی شکست  کا اقرار کچھ یوں کرایا :

  اے پی سی میں نہ بلایاجاناافسوسناک ہے۔ سپاہ صحابہ کے ترجمان خادم ڈھلوں

اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) اپنی حب الوطنی کیلئے کسی سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں لیکن سپاہ صحابہ کی طرح تحریک جعفریہ بھی ایک کالعدم جماعت ہے وزیراعظم سیکرٹریٹ کاامتیازی سلوک قابل قبول نہیں ان خیالات کااظہاراہلسنت والجماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں نے مرکزاہلسنت اسلام آباد میں ایک ہنگامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاسپاہ صحابہ پرپابندی سابق ڈکٹیٹر نے لگائی تھی جسے ہم نے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کررکھاہے اوریہ بات ریکارڈ پرموجودہے کہ اہلسنت والجماعت نے ملک میں قیام امن کیلئے جوجدوجہدحالیہ دورمیں کی ہے کوئی بھی ادارہ یاحکومت اس سے انکارنہیں کرسکتالیکن ملک میں یکجہتی کے فروغ ،استحکام اور نامساعدعالمی حالات پرحکومتی سطح پرمنعقدہونے والی اے پی سی میں ہماری جماعت کودیوارسے لگانے کی کوششیں بھی ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں ، ہم اے پی سی کے انعقادسے قبل ہی اس کے فیصلوں کی بھرپورتائیدکرتے ہیں لیکن ہم عوام کوبتاناچاہتے ہیں کہ ایک کالعدم جماعت کے سربراہ ساجدنقوی کودعوت دیکراوردوسری کالعدم جماعت کے سربراہ علامہ احمدلدھیانوی کونہ بلاکروزیراعظم سیکرٹریٹ سے حالات کوجس رخ پردھکیلنے کااقدام کیاجارہاہے وہ نامناسب بھی ہے اورہمارے لئے ناقابل برداشت بھی۔ ﴿روز نامہ ایکسپریس، اسلام آباد ۲۹۔۰۹ ۔۲۰۱۱﴾

سپاہ صحابہ کے ترجمان خادم ڈھلوں کایہ بیان اتنامضحکہ خیزہے کہ جس کاجواب وزیر اعظم تو کیا  پاکستان کی معمولی معلومات رکھنے والاہربچہ بھی آسانی سے دے سکتا ہے کہ سپاہ صحابہ کی حقیت کیاہے اورکتنی محب وطن جماعت ہے اورآج مملکت خدادادپاکستان میں ملک اسحاق کیاکررہا ہے؟؟
ڈھلوں صاحب کویہ بھی معلوم ہوناچاہئے کہ تحریک جعفریہ جیسی مسلمہ جماعت کوسپاہ صحابہ کے برابرسمجھنے کاخیالی پلاؤ کب کاسڑ چکا ہے،جس کی بدبوسے ہرپاکستانی بیزارہے تاہم علامہ ساجدعلی نقوی  پاکستانی قوم میں بلا تفریق ہردل عزیزسیاسی لیڈرکے طورپرپہچانے جاتے ہیں اورانہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ٹائٹل پردعوت دی گئی تھی۔

  ماضی قریب کی تاریخ میں تو سپاہ صحابہ کے مقتول ایم این اے اعظم طارق کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اسمبلی کے اندر اور باہر مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد نے اس سے ملنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور وہ مولانا فضل الرحمن کے گھر کے باہر کافی وقت انتظار کرتا رہا لیکن اسے ملنے کی اجازت نہیں ملی۔﴿ اظہار بخاری، کالم ،محترم سلیم صافی صاحب﴾قارئین محترم یہ کس کی دور اندیش پالیسیوں کا  نتیجہ ہے؟

    جمعیت علمائے پاکستان نے مذہبی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم "دفاع پاکستان کونسل "سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اراکین نے کونسل میں کسی بھی شیعہ جماعت کی عدم شرکت اور کالعدم جماعتوں کی شرکت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایسے کسی پلیٹ فارم میں شامل نہیں ہو سکتے جس میں اہل تشیع کو نمائندگی نہ دی گئی ہے۔ اراکین عاملہ نے کہا کہ اہل تشیع بھی مسلمان اور پاکستانی ہیں اور پاکستان سے اہل تشیع کی محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن دفاع پاکستان کے نام پر بننے والے اس اتحاد میں اہل تشیع کو نظرانداز کر دیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کونسل کے مقاصد کچھ اور ہی ہیں، جس پلیٹ فارم پر فرقہ واریت کے فروغ کی بو آتی ہو اس میں جمعیت علماء پاکستان کو کسی طور بھی شریک نہیں ہونا چاہیے۔
اس حوالے سے جمعیت کے مرکزی سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر کا کہنا ہے کہ دفاع پاکستان کونسل میں ہمیں شرکت کی دعوت دینے سے قبل بتایا گیا تھا کہ اس میں تمام مذہبی جماعتیں شامل ہیں، لیکن جب ہم نے دیکھا تو اس میں اہل تشیع مسلمانوں کی نمائندگی نہیں بلکہ ایسی جماعتوں کو بہت زیادہ پروٹوکول دیا گیا جو ماضی میں دہشتگردی اور قتل و غارت میں ملوث رہی ہیں اور کالعدم قرار دی جا چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایسے کسی بھی پلیٹ فارم کا حصہ نہیں بن سکتے جہاں گروہ بندی کو فروغ دیا جاتا ہو یا ملک کو کمزور کرنے کی سازشیں کی جاتی ہوں، اس لئے ہماری جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس پلیٹ فارم سے علیحدگی کا اعلان کر دیں۔ انہوں نے کا کہا کہ پاکستان کا دفاع کیسے کرنا ہے یہ ہم جانتے ہیں، ہمیں ایسے لوگوں کی رہنمائی کی ضرورت نہیں، جو قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے شدید مخالف اور قائداعظم کو کافر اعظم کہتے تھے۔﴿اسلام ٹائمز
، www.islamtimes.org

اسلام امن و سلامتی اور بھائی چارے کا دین ہے ۔ یہ اپنے ماننے والوں کو اخوت، برابری، بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔ نبی آخر الزمان نے بارہا مسلمانوں کو پیار، محبت اور امن و امان سے زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ ہمارے اس بیان کی تائید یہ حدیث مبارکہ کرتی ہے:

"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے تمام مسلمان محفوظ رہیں "۔ اگر مسلمان کی یہ تعریف ہے تو پھر علامہ ساجد نقوی سب سے بڑے مسلمان ہیں۔

  کچھ چیزیں اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں، ان میں سب سے بنیادی چیز کج فہمیاں اور ایک دوسرے کی نسبت عدم معلومات ہیں، دوسرے کا حال تک پتہ نہیں، لیکن ایک دوسرے سے بدگمانی کرتے ہیں، ایک دوسرے کے عقائد و افکار کے سلسلہ میں غلط فہمی پیدا کرتے ہیں، شیعہ سنی کے سلسلہ میں، سنی شیعہ کے سلسلہ میں، ایک مسلم قوم دوسری مسلم قوم کے سلسلہ میں، ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کے سلسلہ میں، غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے، دشمن ان غلط فہمیوں کا بہت زیادہ سہارا لیتے ہیں، افسوس کہ کچھ لوگ اسی غلط فہمی اور دشمن کی عمومی پالیسی کو نظرانداز کرنیکے نتیجہ میں دشمن کے ہاتھ کا کھلونہ بن جاتے ہیں اور دشمن ان کو استعمال کرتا ہے، بعض دفعہ کوئی چھوٹا سا جذبہ انسان کو کوئی بات کہنے یا کوئی مؤقف اختیار کرنے پر اکساتا ہے اور دشمن اپنی جامع پالیسی میں اسی بات کا فائدہ اٹھا کر بھائیوں کے درمیان خلیج بڑھا دیتا ہے ۔

۱۴ جون ۲۰۱۲ء

 

 

 

 

  dir=font-size: 14.0pt; font-family:/spanFA 22/spanspan lang=2/h1/span/fontspan lang= fontfontFAfont-size:14.0pt; font-family:span lang=

 

 یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں  کہ اتحاد ووحدت ہی کسی ملک و ملت کا اثاثہ ہوتے ہیں اور زندہ قومیں اپنی یکجہتی کو برقرار رکھنے کی ضرورت کو کبھی فراموش نہیں کرتیں ۔پاکستان جیسی عظیم اسلامی ریاست کا قیام بھی مسلم امہ کے اتحاد کا نتیجہ تھا کہ جب برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے اپنے عظیم قائد کی قیادت میں متحد ہو کر جدوجہد کی اور یہود وہنود کی غلامی سے نجات حاصل کی ۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن جس کی نظروں میں پاکستان کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔ ہمیشہ مسلمانوں کی وحدت کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے اور اس نے کئی مرتبہ مسلمانان پاکستان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے  کی کوششیں کیں لیکن ہر مرتبہ باشعور ملت پاکستان نے ایسی کاوشوں کو ناکام بنایا۔

   اختلافی معاملات کو چھوڑ کر مشترکات پر اتحاد کا عمل نہ کل برا  تھا  اور نہ آج  ہے۔ تاریخ کے ہر موڑ پر اسلام عزیز،امت مسلمہ ،پاکستان اور تشیع کے وسیع تر مفادات میں اتحاد بین المسلمین کے راستے کا انتخاب کل بھی احسن عمل تھا اور آج بھی ہے۔ اتحاد کا مسئلہ تما م مسلم اقوام کیلئے بے حد اہمیت کا حامل ہے کیونکہ عصر حاضر میں اسلام ،مسلمانوں سے تفرقہ بازی ،قوم پرستی ،لسانی تعصبات جیسی لعنتوں سے اجتناب کا تقاضا کر رہا ہے۔

 فکری اجتہاد اور فروعی اختلافات کے باوجود متحدہ برصغیر میں اور قیام پاکستان کے بعد بھی اسلام کے تمام مسالک ،اسلام کی عظمت وسربلندی کیلئے مل جل کر رہتے چلے آئے ہیں اور جب بھی دشمن نے مسلمانوں کو آپس میں برسرپیکار کرنا چاہا شعورو ادراک سے مالا مال علمائے حق نے اپنے اتحاد سے ایسی سازشوں کی بیخ کنی کی ۔اتحاد کی ان کوششوں میں ملت جعفریہ کا کردار سنہری حروف سے لکھا جائے گا اس لیے کہ  مملکت اسلامی پاکستان میں اٹھنے والی اتحاد کی ہر آواز میں اور ہر جدوجہد میں  ملت جعفریہ اور اس کی بابصیرت قیادت  پیش پیش رہی ہے ۔

  سرسيد احمد خان نے پورے ہندوستان کو چھوڑ کر" علي گڑھ"  کو منتخب کيا جس کے متعلق وہ خود بتاتے ہيں کہ۔ يہ شہر آگرہ۔۔ بھرت پور کے علاقے میں سادات کي بستيوں کے قريب ہے جس کے سردار شيعہ ہيں۔ مجھے یہاں کے تمام لوگوں اور ان کي اولاد سے بہت زيادہ توقع ہے کہ يہ سب لوگ دل کی گہرائيوں سے مدرسہ کے حامي اورسرپرست رہيں گے۔ يہی ایک خاص وجہ تھی جس کی وجہ سے ميں نے علي گڑھ کاانتخاب کیا اور اسی  وجہ کوسب سے اعليٰ اور مقدّم سمجھتا ہوں، ميں نہايت مضبوطي اوریقین سے کہہ سکتا ہوں کہ شمال اورمغرب کےتمام اضلاع ميں، مجھے کوئي دوسري جگہ نظرنہ آئي۔ بس انہی وجوہات سے ميں نے دارالعلوم بنانے کے لئے علي گڑھ کو مناسب مقام سمجھا۔ اپني رپورٹ کو اس بات پرختم کرتا ہوں کہ ’’علي گڑھ‘‘ ايک پيارانام ہے۔ ہمارے پيغمبر اکرمؐ  کايہ قول مشہور ہے کہ "انامدينۃ العلم وعلي بابھا"لہذا میں نےفیصلہ کیاکہ "مدرسۃ العلوم" جو ہم مسلمانوں کا درحقيقت پہلاعلمی دروازہ ہوگا علي گڑھ ميں ہي ہونا چاہيے۔﴿مقالات سرسیدج۱۶ ص ۷۶۴ ۔ ۷۷۱

برصغیر پاک وہند میں اسلام کی آمد واشاعت مسلمانوں کی بیداری  اور تحریک  پاکستان کا لمحہ لمحہ گواہ ہے  کہ شیعیان حیدر کرارؑ ہی تھے  کہ جنہوں نے برصغیر  پاک وہند میں ایک عظیم نظریاتی اسلامی مملکت کے قیام کو ممکن بنایا۔ سر محمد علی خان ،مہاراجہ صاحب آف محمود آباد، راجہ امیر احمد خان، راجہ صاحب آف محمود آباد،راجہ صاحب آف سلیم پور، نواب سر فتح علی خان قزلباش ، حضرت عماد الملک مولوی حسین بلگرامی،سر آغا سوئم، جسٹس سید امیر علی، سعید محمد مہدی، خان بہادر سید آل نبی،خان بہادر خلیفہ سید محمد حسین ،راجہ غضنفر علی خان، سید محمد محسن آف ڈھاکہ ، نواب محمد اسماعیل خان پسر سید علی امام ، سید رضا علی،ابوالحسن اصفہانی آف ڈھاکہ،سید ابو جعفر، سیٹھ محمد علی حبیب ﴿حبیب بینک﴾ اور غلام ثقلین سمیت لاکھوں شیعہ زعماء ،رہنماء اور  کارکنان نے مسلم لیگ اور تحریک پاکستان میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں اور مسلمانان برصغیر کے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر بنایا  ۔ ﴿مرکز مطالعات اسلامی پاکستان، تحقیقی دستاویز صفحہ ۲۱ ،مجلہ تحریک ،اگست ۱۹۹۷ء  صفحہ ۴۰ ، رئیس احمد جعفری، قائد اعظم اور ان کا عہد صفحہ ۲۳۵،شہید راہ وحدت علامہ حسن ترابی شہید،صفحہ ۲۰۲ تا۲۰۴﴾

قائد اعظم محمد علي جناح برطانيہ کي پرعشرت زندگي چھوڑ کرمسلمانانِ ہند کے دکھ درد میں شریک ہونے کے لیے ہندوستان تشريف لائے اور اس کے بعد مسلمانوں کے ہردلعزيز ليڈربن گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی مدبّرانہ قیادت ہی قیام پاکستان کی کامیابی کا سرچشمہ ثابت ہوئی۔آپ ايک غيرمتعصب شيعہ تھے۔ مذہبِ اہلِ بيتؑ سے تعلق رکھنے کے باوجود کبھي آپ نے کسي فرقے کي ضرور ت سے زيادہ حمايت نہيں کي۔ ﴿خالد احمد، قائد اعظم کے خاندانی تنازعے،صفحہ ۱۱ ،  ہفت روزہ تکبیر  انٹرویو علامہ حسن ترابی ۱۴ فروری ۲۰۰۱ ء،﴾
بائیس ۲۲ نکات

    قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد اسلام دشمنوں نے یہ پروپیگنڈہ  شروع کیا کہ پاکستان میں نظام اسلام نافذ نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ اسلام کے تہتر فرقوں  میں سے ہر فرقہ اپنے ہی نظریات کو اصل اسلام سمجھتا ہے تو کونسا اسلام نافذ کیا جائیگا۔ اس چیلنج کے جواب میں ملک  بھر کے مختلف  مکاتب فکر کے اکتیس مقتدر علماء نے اکیس سے چوبیس  جنوری ۱۹۵۱ ء تک کراچی میں اجلاس کر کے بائیس نکاتی دستاویز مرتب کی جسکی روشنی میں نافذ ہونے والا نظام  اسلام تمام فرقوں سے سند قبولیت حاصل کر سکتا تھا۔علامہ  مفتی جعفر حسین اور حافظ کفایت  حسین اس اجلاس کے روح رواں تھے۔ اس کے نکتہ نمبر بائیس میں کہا گیا  ہے ۔ "دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہو گی جو کتاب وسنت کے خلاف ہو"۔ اس نکتے کے نیچے ایک تشریحی نوٹ مفتی جعفر حسین کی خصوصی کاوشوں کےنتیجہ میں لکھا گیا۔

نوٹ : " قرآن وسنت کے الفاظ جہاں جہاں آئے ہیں ان کا کسی فرقہ پر اطلاق کے وقت وہی مفہوم مراد لیا جائیگا جو اس فرقہ کے نزدیک  صحیح اور مسلّم ہو "۔ ﴿سید سعید رضوی، خورشید خاور ،صفحہ ۱۱۶  ، مجلہ المخزن سلسلہ اشاعت ۶  مقالہ مفتی جعفر حسین   صفحہ ۳۶﴾

واضح رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اس تشریحی  نوٹ کو اس دستاویز  سے حذف کردیا گیا۔ ﴿خورشید خاور ، صفحہ ۱۱۷ ﴾

لاہور میں شیعہ سنی فسادات کا خاتمہ

   ۱۹۶۳ ء میں لاہور میں شیعہ سنی فساد ہو ا ،قصور کس کا تھا، اس سے بحث نہیں۔ اس فساد کا نتیجہ یہ نکلا کہ تصادم ہو گیا اور تصادم کی وجہ سے پورا شہر فرقہ واریت  کی لپیٹ میں آ گیا۔  ملت جعفریہ کے ممتاز علماء علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم  اور مولانا سید اظہر حسن زیدی  نے اہلسنت کے جید عالم دین مولانا کوثر نیازی کے ساتھ مل کر مختلف علاقوں میں اسلامی اتحاد کے موضوع پر جلسہ ہائے عام کا اہتمام کیا کچھ اجتماعات کربلا گامے شاہ  اور ڈویژنل آڈیٹوریم میں بھی ہوئے ان جلسوں میں شیعہ اور سنی  دونوں مکاتب فکر کے لوگ جوق در جوق شریک ہوتے تھے تو مذکورہ علمائے کرام کی تقاریر کی وجہ سے اچھے جذبات لے کر واپس لوٹتے  اور تھوڑے ہی عرصہ میں فضا کا تکدّر جاتا رہا اور لاہور کے شیعہ و سنی پھر سے شیروشکر ہو گئے۔﴿کوثر نیازی ،جنہیں میں نے دیکھا، صفحہ ۹۴ ﴾

آل پاکستان علماء کنونشن

    ۲۱ اگست ۱۹۸۰ ء کو حکومت وقت نے اسلام آباد  میں ایک "آل پاکستان علماء کنونشن " منعقد کرانے کا اعلان کیا اس میں شرکت کیلئے مفتی صاحب کو بھی حکومت نے دعوت دی لیکن مفتی صاحب نے اس کنونشن میں شرکت کرنے کی دعوت کومسترد کر دیا۔ مولانا کوثر نیازی کہتے ہیں کہ  میں سیاسی طور پر حکومت وقت کے ساتھ "عدم مزاحمت اور عدم موافقت" کی پالیسی پر عمل پیرا تھا  لیکن اتحاد اسلامی کو معرض خطر میں دیکھ کر اس کنونشن کی کامیابی کیلئے  میں نے بھی کوشش کی۔ میں نے علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم سے ذاتی طور پر  رابطہ کیا اور انہیں اس کنونشن میں شریک ہونے کی درخواست کی تو مفتی صاحب میری شخصی درخواست پر اپنے سیکرٹری جنرل سید شائق انبالوی اور اپنے ایک دوسرے  رفیق کار سید بشیر حسین نقوی کے ساتھ ۲۰ اگست کو کوئٹہ سے بذریعہ  طیارہ اسلام آباد پہنچے۔مفتی صاحب کی شرکت کی وجہ سے شیعہ اور سنی تناؤ میں کافی کمی آگئی اور اس ملک میں فرقہ وارانہ تعصبات کی جو آندھی چلنے والی تھی وہ خدا کے فضل وکرم سے اخوت ومحبت کی بادِ نسیم میں تبدیل ہو گئی۔ ﴿کوثر نیازی، جنہیں میں نے دیکھا، صفحہ ۹۵۔۹۶ ﴾

قائد شہید داعی اتحاد بین المسلمین

  اتحاد بین المسملین قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی  کی نظر میں صرف مسئلہ ضرورت کے تحت نہیں تھا جیسا کہ ماضی میں مذہبی ،سیاسی رہنماوں کے ساتھ رہا، بلکہ یہ آپ کے دل کی گہرائیوں کی صدا اور حسرت تھی جو آپ کی فطرت کا ایک جزو بن چکی تھی ۔ذہن کے دریچے کھول دینے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ آپ نے زندگی میں اگر کسی جہاد میں شہید ہونے کی تمنا کی ہے تو جہاد افغانستان ہی تھا۔ اگر آپ کے ذہن میں شیعیت نوازی کا عنصر غالب ہوتا تو آپ ایران کے کسی مورچے کو اپنی شہادت کے لئے تجویز فرماتے ۔آپ نے افغانستان کے جہاد سے وابستگی کا اظہار فرما کر ثابت کر دیا کہ آپ ایک سچے مسلمان اور اسلام دوست تھے۔

آپ نے ۱۹۸۴ ء میں بھکر کی جامع مسجد میں عوام کے ایک بہت بڑے اجتماع  سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "شیعہ اور سنی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تاریخی اختلافات کو حدود میں رکھیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں ۔ ان کے مشترکہ دشمن امریکہ ،روس اور اسرائیل ہیں جوانہیں نابود کرنے کے درپے ہیں۔ ان کی نظر میں نہ کوئی شیعہ ہے اور نہ کوئی سنی ، وہ ہمیں بحیثیت  مسلمان کے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔لہذا ایسے میں ضروری ہے  کہ ہم اپنے فروعی اختلافات کو بھلا کر اسلام دشمنوں کے خلاف مشترکہ موقف اختیار  کریں"۔

اپریل ۱۹۸۴ کو ڈیرہ غازی خان میں ایک پریس کانفرنس سے اپنی تحریک کا موقف بیان کرتے ہوئے فرمایا : " تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ ہم ملک میں فقہ جعفریہ کا نفاذ چاہتے ہیں ۔واضح رہے کہ  ہم صرف اپنے لئے فقہ جعفریہ اور دیگر برادران اہلسنت کیلئے ان کی فقہ کا مطالبہ کرتے ہیں تا کہ مسلمانوں کے دونوں گروہ اپنی اپنی فقہ کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں "۔

 ملتان میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : "ہم ہر ظالم کے دشمن ہیں چاہے وہ شیعہ ہی کیوں نہ ہوں اور ہر مظلوم کے حامی ہیں چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں "۔

لاہور میں اہلسنت کے معروف عالم دین مولانا مفتی محمد حسین نعیمی سے ایک ملاقات میں اپیل کی کہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں سمیت اتحاد بین المسلمین کے فروغ کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور سامراج کی سازشوں کا قلع قمع کر دیں ۔

ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا ہماری تحریک چاہے فقہ جعفریہ کے نام سے ہو یا کسی اور نام سے ، ہمارا ہدف اتحاد، اسلام کی سربلندی اور ملک کا استحکام ہے۔ ہم ہر اس اسلامی تنظیم کا ساتھ دینے کیلئےتیار ہیں جو حقیقی معنوں میں اسلام کی خدمت کرنا چاہتی ہے، چاہے اس کا تعلق مسلمانوں  کے کسی فرقہ سے ہو اور اس کا نام کچھ بھی ہو "۔﴿ خلاصہ ،سفیر نور صفحہ ۱۷۰ تا۱۹۲﴾

آپ سیاسی اور ذاتی حوالے سے مولانا فضل الرحمن سے کافی محبت اور اعتماد کے خواہاں تھے۔﴿ سفیر نور صفحہ  ۱۹۲ ﴾ قائد شہید کی زندگی میں جب ڈیرہ اسماعیل خان کے روٹ کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس سنگین مسئلہ کے حل کیلئے ڈیرہ اسماعیل خان کا ڈپٹی کمشنر آپ کے پاس پہنچا اور گزارش کی کہ علامہ صاحب آپ ڈیرہ کے مسئلہ میں ہماری مدد فرمائیں تا کہ شیعہ سنی کشیدگی کا خاتمہ ہو۔ آپ نے واضح جواب دیا کہ یہ مسئلہ علاقائی بھی ہے لہذا وہاں کے مسلمانوں کو چاہیے اس مسئلہ کا حل تلاش کریں ۔ آپ نے یہ بات کہہ  کر ڈی۔سی  کے رونگٹے کھڑے کر دئیے کہ مجھے مولانا فضل الرحمن صاحب پر اعتماد ہے وہ اس معاملہ میں جو فیصلہ کریں گے ہم اس کا احترام کریں گے۔﴿ تسلیم رضا خان، سفیر نور ۱۷۶ ،اشاعت دوم ۱۹۹۸ ء﴾

  اپنے بچوں کو قرآن مجید کا قاری بنانا چاہا توآپ نے جی ٹی ایس پشاور اڈا  کی مسجد کے خطیب کو منتخب فرمایا۔ علماء اہلسنت سے ملنا،ان کی محفلوں میں بیٹھنا ، ان سے اسلام کے بارے میں گفتگو کرنا آپ کی تمنا ہوتی  تھی اور کئی بار دیکھا گیا کہ علماء اہلسنت سے مل کر  آپ کا چہرہ گلاب سا ہو جاتا تھا۔ پشاور میں رہتے ہوئے مولانا عبدالرحمان ،مولانا جمال الدین ، مولانا وحید الدین ، مولانا عبدالقدوس سابق امیر جماعت اسلامی صوبہ سرحد اور مولانا اشرف علی قریشی آپ کے گہرے دوست تھے ۔ آپ کے رفقاء کے بقول کہ فارغ وقت میں علماء اہلسنت سے ان کے مدارس  ،مساجد یاگھر  میں جا کر ملنا آپ کی محبوب مصروفیت ہوتی تھی۔﴿ ایضاً﴾

اتحاد امت کیلئے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا اعلامیہ وحدت

    مذکورہ بالا ۲۲ نکات کی منظوری کے ایک عرصہ بعد جب دشمن نے شاید یہ سوچ کر کہ اب تو ان نکات کی منظوری دینے والے بیشتر علماء بھی خالق حقیقی سے جا ملے ہیں اور اس نےایک بار پھر اپنے کچھ ایجنٹوں کے ذریعے عوام میں وسوسے اور شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوششیں کرنا چاہیں تو ایسے میں ایک بار پھر غیور اور  اتحاد ووحدت کی ضرور ت سے آگاہ ملت اسلامیہ کے دو انقلابی رہنماؤں ملت تشیع کے قائد و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی اور اہلسنت کے ممتاز عالم دین وپاکستان عوامی تحریک کے سربراہ  علامہ ڈاکٹر پروفیسر طاہر القادری نے دس نکاتی متفقہ اعلامیہ وحد  ت جاری کیا اور دشمن کی سازشوں کو دفن کر دیا۔ اس اعلامیہ وحدت کاپاکستان کے عوام ، سیاسی رہنماؤں اور علمائے اسلام کی اکثریت نے پرجوش خیرمقدم کیا اور اس مشترکہ اعلامیے  سے ایک  بار پھر اتحادووحدت کی کوششوں کو تقویت حاصل ہوئی۔﴿ مصطفوی انقلاب کی جانب ایک تاریخ ساز قدم "اعلامیہ وحدت" پاکستان عوامی تحریک اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مابین طے پانے والا دس نکاتی فارمولا ، ۵ صفحات پر مشتمل ہے ﴾

ضابطہ اخلاق  اتحاد بین المسلمین  کمیٹی

   ملت جعفریہ کی انہی کوششوں کا تسلسل  ۱۹۹۰ ء میں حکومتی سطح پر اتحاد  بین المسلمین کمیٹی کی صورت میں سامنے آیا کہ جب اس وقت کے وفاقی  وزیر مذہبی امور  مولانا عبدالستار نیازی کی سربراہی میں ایک ۳۰ رکنی کمیٹی قائم کی گئی جس میں اہل تشیع کی نمائندگی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی نائب صدر  علامہ سید محمد تقی نقوی ،علامہ مرزا یوسف حسین ،علامہ ریاض حسین نقوی اور علامہ علی غضنفر  کراروی نے کی ۔ کمیٹی کے مختلف اجلاسوں کے بعد ۲۸ ستمبر ۱۹۹۱ ء کو گورنر پنجاب ہاوس لاہور میں ایک "ضابطہ اخلاق" کی منظوری دی جس پر تمام مکاتب فکر کے ۴۱ علماء نے اپنی مہر تصدیق ثبت  کی جن میں تحریک جعفریہ کے سیکرٹری جنرل علامہ سید افتخار حسین نقوی اور علامہ یعقوب علی توسلی بھی شامل تھے۔ یہ سرکاری سطح پر ایک اچھی کوشش تھی کہ جس  سے ملک کے اندر وحدت ویکجہتی کے فروغ کی راہ ہموار ہوئی تھی تاہم بعد ازاں یہ کمیٹی زیادہ فعال کردار ادا نہ کر سکی۔ حتی کہ ۱۹۹۳ ء میں خود حکومت بھی رخصت ہو گئی۔ ﴿وزارت مذہبی امور،حکومت پاکستان ، ضابطہ اخلاق اتحاد بین المسلمین ، ۶ صفحات پر مشتمل ہے ، مرکز مطالعات اسلامی پاکستان ،تحقیقی دستاویز صفحہ ۲۴﴾

   ملی یکجہتی کونسل

     بعد ازاں ایک بار پھر  جب دشمن نے اپنے کچھ ایجنٹوں کے ذریعے تکفیر کا پرانا کھیل دوبارہ کھیلنا چاہا اور گلی کوچوں میں کافر کافر کی غلیظ مہم بازی کے ذریعے بھائی  کوبھائی سے لڑانا چاہا اور مذہب کے نام پر تشدد اور قتل وغارت کی بھیانک مہم شروع ہوئی تو ایک بار پھر  تحریک جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم پر متحد ملت جعفریہ نے دشمن کی اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے پوری قوت سے اتحاد کا نعرہ بلند کیا اور وحدت کے علم کو تھام کر دشمن کے عزائم کے سامنے آہنی دیوار بن گئی۔ ۱۹۹۵ء میں تحریک جعفریہ پاکستان کے زیراہتمام ملی یکجہتی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک کے تقریباً تمام مکاتب فکر کے علماء اور سیاسی ومذہبی رہنماؤں نے شرکت کی ۔یہ کانفرنس بعد ازاں ملت کے اتحاد کا زینہ ثابت ہوئی کہ اس کے بعد ملک کی قابل ذکر اور دینی جماعتوں کے سربراہوں نے اسلام دشمن قوتوں کی ملت اسلامیہ کے اتحاد کو پارہ پارہ  کرنے کی سازشوں کے خاتمہ کیلئے مل بیٹھنے کی ضرورت کو محسوس کیا۔ ان علماء کی کئی میٹنگز ہوئیں اور بالآخر ۲۴ مارچ کو اسلام آباد  میں "ملی وقومی یکجہتی کانفرنس" کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس کانفرنس میں تحریک جعفریہ ،جماعت اسلامی ،جمعیت علمائے اسلام ﴿ف ﴾جمعیت علمائے اسلام﴿ س﴾ ،جمعیت علمائے پاکستان ﴿نیازی گروپ﴾ ،تحریک منہاج القرآن اور جمعیت اہل حدیث پاکستان سمیت ملک کی  ۱۱ دینی جماعتوں  کے سربراہوں نے شرکت کی۔کانفرنس میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں اسلامی انقلاب برپا کرنے اور شریعت محمدی  کے عملی نفاذ کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے کا عزم کیا گیا تھا۔﴿ہفت روزہ، زندگی لاہور، جلد ۱۶،اشاعت ۳تا۱۸ مئی ۱۹۹۵ ء، ضابطہ اخلاق ،ملی یکجہتی کونسل پاکستان ۲۳ اپریل ۱۹۹۵ ء لاہور،مرکز مطالعات اسلامی پاکستان ،تحقیقی دستاویز صفحہ ۲۴ ۔۲۵ ﴾

    علاوہ از ایں  انہی  ۱۱ دینی جماعتوں کے سربراہوں پر مشتمل ایک کونسل بھی قائم کی گئی جسے ملی یکجہتی کونسل کا نام دیا گیا۔ملی یکجہتی کونسل کا قیام ایک انتہائی تابناک  اقدام تھا کیونکہ تمام مسالک کے جید علماء اور قابل ذکر  دینی جماعتوں کے سربراہوں نے ایک بار پھر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی  استعماری سازش کا قلع قمع کردیا تھا اور مسلمانوں کے اتحاد کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔کونسل کے قیام سے واضح ہو گیا  کہ اسلام و فرقہ واریت کے نام پر جاری دہشت گردی کا اسلام و مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اگر مسئلہ فرقہ وارانہ ہوتاتو پھر یہ علماءاس طرح مل  کر نہ بیٹھ سکتے ۔ ملی یکجہتی کونسل کے قیام اور بعد ازاں اس کی کمیٹیوں میں تحریک جعفریہ پاکستان نے انتہائی ٹھوس اور قابل تعریف کردار ادا کیا اور مسلمانان پاکستان کی وحدت ویکجہتی میں اضافے کیلئے مثبت کاوشیں کیں۔  دہشت گردی اور قتل وغارت گری کے طوفانوں میں بھی ملت جعفریہ کی قیادت نے"  ملی یکجہتی کونسل" کی شکل میں اتحاد واخوت کی شمع جلائے رکھی اور متعدد افسوس ناک اور دل دہلا دینے والےواقعات کے باوجود امت مسلمہ کی وحدت کو منتشر نہیں ہونے دیا۔                                

 متحدہ مجلس عمل

   پاکستان کی چھ دینی سیاسی جماعتوں نے  ۲۷ جون ۲۰۰۱ ء کو اسلام آباد میں ایک سربراہی اجلاس کا انعقاد کیا  اور انہوں نے اس اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم پاکستان کی آزادی ،سلامتی ،استحکام اور اسلامی تشخص کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ ہمارا اصل ہدف ملک میں حقیقی ،اسلامی ،جمہوری نظام کا قیام ہے۔ اس اجلاس  میں اعلان کیا گیا کہ  پاکستان کی بنیاد اسلام  پر  ہے۔اور ۱۹۷۳ ء کا آئین اسلام ہی کی بنیاد پر  پارلیمانی جمہوریت اور وفاقی  نظام حکمرانی کے قیام کا ضامن ہے ۔ انہی چھ  دینی و سیاسی جماعتوں نے "متحدہ مجلس عمل " کی تشکیل  کا اعلان کیا۔  اس پلیٹ فارم کی نگاہ میں دستور کی بحالی اور دستور کے فریم ورک میں قرآن وسنت کی ہدایت اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات  کے مطابق  ایک ایسی  ریاست اور معاشرے کا قیام   ان کی جدوجہد کا مقصود تھا جو عوام  کی آزادی ، دینی  روایات ،ملی تہذیب وتمدن ،معاشی انصاف اور خوشحالی کی ضمانت دے۔نیز ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کر ے گا تاکہ تمام دینی /سیاسی قوتیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اسلامی نظام زندگی کے قیام اور لادینی عناصر کی یلغار کا مقابلہ کر سکیں۔﴿متحدہ مجلس عمل پاکستان فیصل آباد ، دستور ومنشور متحدہ مجلس عمل پاکستان ،صفحہ۲ ﴾

متحدہ مجلس عمل کا قیام ریاست پاکستان کو بانی اسلام اور بانی پاکستان کے نظریہ اسلامی و فلاحی مملکت کی عملی صورت دینے کے لئے ہوا۔﴿وکیپیڈیا﴾

 ایم ایم اے پانچ برس صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکمران رہی۔ مرکز میں بھی اُسے توانا اپوزیشن کا درجہ حاصل تھا۔اسی اتحاد میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے  ملت جعفریہ کی طرف سے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ۔ ایم ایم اے بنیادی طور پر ایک انتخابی اتحاد تھا تاہم ایم ایم اے نے مذہبی ہم آہنگی میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کے عوام کی ایک قابل ذکر تعداد نے بھی مذہبی جماعتوں کے اس اتحاد پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں یہ اتحاد دوسرے بڑے سیاسی گروہ کی حیثیت سے منظر عام پر آیا۔ یہ فوجی آمریت کا دور تھا۔ فوجی آمروں کے اپنے مفادات اور ترجیحات ہوتی ہیں۔ ایم ایم اے کا مذہبی کردار تو خاصا مؤثر رہا، لیکن سیاسی حوالے سے اگرچہ موجودہ خیبر پختونخوا میں اس کی بلاشرکت غیرے حکومت قائم رہی اور بعض حوالوں سے اس نے اچھی مثالیں بھی قائم کیں، تاہم مرکز میں چونکہ فوجی آمریت کا دم چھلہ بننے والوں کی حکومت تھی، اس لیے صوبائی سطح پر کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہ تھا۔ یہ اتحاد بعدازاں پہلے کی سی صورت میں قائم نہ رہ سکا، اس میں موجود دوسری بڑی تنظیم جماعت اسلامی نے 2008ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا، جس کے نتیجے میں نئے انتخابات میں مذہبی جماعتیں قابل ذکر کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔

  ختم بخاری کی محفل منعقدہ زاہدان﴿ ایران﴾ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن سربراہ جمعیت علماء اسلام پاکستان نے اس اتحاد  کے بارے کہا  کہ " پاکستان میں متحدہ  مجلس عمل کے عنوان سے ایک جماعت بنائی ہے جس میں تمام متحرک مذہبی جماعتیں جن میں شیعہ بھی ہیں اور سنی بھی سبھی جماعتیں اس میں متحد ہو گئی ہیں۔  عراق میں شیعہ سنی کا مسئلہ اٹھانے  کی کوشش ہو رہی ہے آیت اللہ محمد باقر الحکیم کو نہایت ظالمانہ طریقے سے شہید کر دیا گیا تا کہ دونوں فرقوں  کے درمیان خون ریزی تصادم ہو اور ایرانی رہنماؤں اور عراقی عوام کی دوراندیشی اور تدبر کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے فتنہ انگیز کوششوں کو ناکام بنایا اور اب ان میں مکمل اتحاد ہے۔ میں پاکستانی  عوام کی طرف سے اب ایرانی عوام  کو یہ اطمینان دلاتا ہوں کہ پاکستان کے عوام بُرے وقت میں آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔پاکستان کے عوام کے دل  آپ کے دلوں کے ساتھ دھڑک رہے ہیں"۔ ﴿شہید راہ وحدت علامہ حسن ترابی شہید صفحہ ۸۴﴾

  اتحاد مدارس دینیہ

جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن  کراچی کے اتحاد مدارس دینیہ کے جلسوں میں شہید حسن ترابی کے علاوہ علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی  ،مولانا محمد عون نقوی اور مولانا کرام ترمذی  شرکت کر کے ملت جعفریہ کی نمائندگی کرتے رہے اور محبت واخوت کا پیغام دیتے رہے ۔ ﴿شہید راہ وحدت علامہ حسن ترابی شہید صفحہ ۷۹ ﴾ ۳۱ جولائی ۲۰۰۳ ء کو اتحاد مدارس دینیہ پاکستان کے" کل پاکستان علماء کنونشن" منعقدہ جامعۃ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں حافظ سید ریاض حسین نجفی کی شرکت اور شرکاء کنونشن سے خطاب  ﴿روزنامہ جنگ یکم جون ۲۰۰۳ ء﴾

نیشنل اور انٹر نیشنل کانفرنسز

نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر اتحاد و وحدت کے حوالے سے جہاں بھی کانفرنسز منعقد ہوئی ہیں ملت جعفریہ نے ہر جگہ  پر اپنا رول ادا کیا ہے ۔ اس سلسلے میں عالمی سطح پر ہونے والا قاہر ہ کی  الازہر یونیورسٹی کا سالانہ  علمی سیمینار ہو یا  تہران میں منعقد ہونے والی سالانہ وحدت کانفرنس ہو  ہر جگہ شیعہ قیادت  کا وجود اور موقف  انتہائی واضح  الفاظ  میں دکھائی دیتا ہے ۔ اسی سلسلے کی ایک  کڑی  وہ  عالمی  اہلبیت کونسل ہے کہ جس کے سالانہ اجلاس جو کہ  ہمیشہ  مسلمانان عالم کی مشکلات  کے راہ حل کی  جدوجہد  کے لیے منعقد ہوتے ہیں اس میں بھی  شیعہ قیادت کی شرکت اور  بین الاقوامی مسائل پر اپنا نقطہ نظر بیان کرنا  کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے  ۔ اس کے علاوہ مجمع تقریب بین المذاہب الاسلامی،  عالمی سطح پر  اپنی خدمات پیش کر رہا ہے اس کی شورای عالی کے رکن کی حیثیت سے بھی  قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی  کلیدی مقام کے حامل ہیں۔ 

ملی یکجہتی کونسل کا احیاء

 پاکستان کو جن سیاسی ،سفارتی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے ان میں داخلی عدم استحکام سب سے بڑا چیلنج ہے کیونکہ جب تک پاکستان میں داخلی سطح پر امن وامان قائم نہیں ہوگا ۔معاشی ترقی ہوسکتی ہے اور نہ ہی قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتاہے۔اسی چیز کے پیش نظر بعض  ملت کے ہمدردوں  نے یہ ضرورت محسوس کی کہ اہل دین و مذہب کو  سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور ملک میں مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے تدابیر کرنا چاہیے۔ 21 مئی 2012ء کو میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں منعقدہ ”اتحاد امت اور اسلامی یکجہتی“ کانفرنس اسی غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ اس میں ملک کے تمام اسلامی مکاتب فکر کے ذمہ دار نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کا دعوت نامہ سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد کی طرف سے جاری کیا گیا تھا اور یہ کانفرنس جماعت اسلامی پاکستان ہی کے زیراہتمام منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں تمام اسلامی مسالک کے راہنما شریک ہوئے۔ کانفرنس میں سب مقررین نے مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد پر زور دیا۔ سب نے تکفیری رویے کی کھل کر مذمت کی۔ تمام مقررین کا نظریہ تھا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ سب کی رائے تھی کہ مختلف اسلامی مسالک کے افراد کو قتل کرنے والے گروہوں اور افراد کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

  پاکستان کی چند ایک نمایاں مذہبی جماعتوں اور شخصیات نے مشترکہ طور پر ملی یکجہتی کونسل کے احیاءکا فیصلہ کیا ہے تاکہ فرقہ واریت کے عفریت پر قابو پانے کی کوئی راہ تلاش کی جاسکے۔پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کے خلاف" ملی یکجہتی کونسل" کا قیام پاکستان کی تمام مذہبی جماتوں کی شرکت،کالعدم دہشت گرد تنظیموں  کی عدم موجودگی کی یقین دہانی پرقائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نےشرکت کی ۔ ملک کی اہم سیاسی و دینی جماعتوں نے ملک میں مختلف مسالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے قیام، فرقہ واریت کے خاتمے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد اور اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے ملی یکجہتی کونسل کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے سابق امیر جماعت اسلامی و صدر متحدہ مجلس عمل قاضی حسین احمد کو تنظیمی ڈھانچہ بنانے والی کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا۔

    اجلاس میں ،قاضی حسین احمد،  جے یو آئی کے حافظ حسین احمد، جماعت اسلامی کے پروفیسر محمد ابراہیم، پیر عبدالشکور نقشبندی، صاحبزادہ محمودالحسن نقشبندی، محمد یحییٰ مجاہد، صاحبزادہ سلطان احمد، محمد خان لغاری اور ثاقب اکبر کے دستخط ہیں۔ لیاقت بلوچ کے اعلامیہ پڑھنے پر تمام شرکاء کانفرنس نے اعلامیے کی تائید و منظوری دی۔ کانفرنس میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی، سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد اور موجودہ امیر سید منور حسن سمیت  پیر عبدالرحیم نقشبندی، حافظ عاکف سعید، مولانا ملک عبدالرؤف، لیاقت بلوچ، قاری حنیف جالندھری، حافظ حسین احمد،مولانا محمد امین شہیدی، مولانا طیب طاہری، مولانا عبدالمالک، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، ابو شریف، ڈاکٹر رحیق عباسی، صاحبزادہ سلطان احمد، پیر ہارون گیلانی، عبدالغفار روپڑی، سراج الحق، پروفیسر ابراہیم، قاضی نیاز حسین نقوی، محمد خان لغاری، پیر محفوظ مشہدی، مولانا نذیر احمد فاروقی، مولانا عامر صدیقی، مولانا عنایت اللہ، عبدالرشید ترابی، مولانا مظہر بخاری، ع۔ غ  کراروی، مولانا عبدالسمیع، ڈاکٹر عابد رؤف اورکزئی اورسید  ثاقب اکبر نقوی نے شرکت کی اور اظہار خیال کیا۔ ﴿نوائے وقت ۲۲ مئی ۲۰۱۲ ء،جعفریہ پریس ،اسلام ٹائمز، ثنا ء نیوز﴾

ملی یکجہتی کونسل  کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے  سید ثاقب اکبر نقوی  کہتے ہیں :

       "موجودہ سیاسی میدان میں اگرچہ مذہبی جماعتیں زیادہ مؤثر نہ ہوں، تاہم مذہبی ہم آہنگی کے لیے وہ مل جل کر اب بھی بہت بڑا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ کچھ عرصے سے پاکستان میں بعض ایسے واقعات پھر سے رونما ہونے لگے ہیں کہ جن کی وجہ سے درد  رکھنے والے اہل دین کو تشویش ہے کہ اگر ان کی روک تھام نہ کی گئی تو اس سے پاکستان کے استحکام کو ہی خطرہ لاحق نہ ہوگا بلکہ دین اسلام کے تشخص کو بھی عالمی سطح پر زیادہ نقصان پہنچے گا۔ کراچی، کوئٹہ، چلاس اور کوہستان وغیرہ میں ہونے والے اندوہناک واقعات اس کی غمناک مثال ہیں۔ جناب قاضی حسین احمد نے راقم سے ایک ملاقات میں بتایا کہ چند اہم مذہبی اداروں اور تنظیموں کے جو اکابرین 21 مئی کے اجلاس میں بوجوہ شریک نہیں ہوسکے، آئندہ اجلاس میں انہیں بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ یقیناً اس صورت میں ملی یکجہتی کونسل اور بھی زیادہ اعتماد سے مسلمانوں کے مابین ہم آہنگی اور اسلامی اقدار کے احیاء اور فروغ میں اپنا کردار ادا کر سکے گی۔ آخر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ملی یکجہتی کونسل ایک انتخابی اتحاد نہیں ہے بلکہ ایک دینی اتحاد ہے۔ اگرچہ یہ بات بھی اجلاس کے دوران واضح کر دی گئی تھی کہ دینی اتحاد کا یہ مطلب نہیں کہ کونسل دین اسلام کے سیاسی غلبے کی جدوجہد سے الگ رہے گی"۔ ﴿ثاقب اکبر،کالم، ملی یکجہتی کونسل کا احیاء، جعفریہ پریس و اسلام ٹائمز﴾

 معروف عالم دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی  آف کراچی نے کہا ہے کہ "بڑھتی ہوئی فرقہ واریت کے خاتمے اور مختلف مکاتب فکر کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کیلئے" متحدہ مجلس عمل" اور" ملی یکجہتی کونسل" جیسے اداروں کی بحالی نہایت ضروری ہے کیونکہ اس وقت ہمارا ملک اندرونی اور بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے ایسے میں تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں میں ہم آہنگی نہایت ضروری ہے"۔

  حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے اداروں اور افراد کی حوصلہ افزائی کرے جو معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایسے علماء اور شخصیات کو ذرائع ابلاغ میں بھی زیادہ سے زیادہ جگہ دی جائے جو اعتدال پسندانہ خیالات کے حامل ہوں اور دلیل کا جواب بندوق کے بجائے استدلال سے دینے کے اہل ہوں۔ملی یکجہتی کونسل میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ معاشرے میں سرگرم انتہاپسند عناصر کو اعتدال کی راہ دکھائے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرے۔لہٰذا  اس کی تشکیل کا خیر مقدم کیا جاناچاہیے۔ملت جعفریہ آج بھی اتحاد ووحدت  کی تمام کوششوں کا ہراول دستہ بننے کو تیار ہے اور آج بھی مسلمانان پاکستان کی یکجہتی کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی اور ملت اسلامیہ میں جدائی ڈالنے کی استعماری سازشوں کو ناکام بناتی رہے گی کیونکہ  جب تک ملت اسلامیہ  متحد ہے استعمار کبھی بھی اپنے گھناؤنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔     

   انسان دوست وبلاگ : ۱۵ مئی ۲۰۱۲ ء ۔ قیام امام  حسین علیہ السلام سے لے  کر عصر حاضر تک ظالم جابر حکومتوں کےخلاف جتنی بھی تحریکیں  وجود میں آئیں ان میں سے اکثر نے امام حسین   ؑکی تحریک اور قیام سے الہام لیا ہے۔اور جہاں تک ہم نے مشاہدہ کیا کہ تحریک جعفریہ پاکستان علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی قیادت میں  ۱۲  اپریل  ۱۹۷۹ ءکو وجود میں آئی  ہے۔تحقیق اور باریک بینی  سے پتا چلتا ہے کہ اس جماعت  نے بھی امام عالی مقام  کے قیام سے الہام لیا ہے۔تحریک جعفریہ  شیعیان پاکستان کی ایک بہت بڑی جماعت ہےاس جماعت نے یوم تاسیس سے لے کر اب تک  شیعیان پاکستان کے حقوق کےدفاع  کے لئے بہت ساری خدمات انجام دی ہیں ۔ سیاسی ،اجتماعی،ثقافتی ،فلاحی ،علمی اور مکتبی میدانوں میں فعالیت کی ہے۔اس تحریر میں ہم نے فقط تحریک کی سیاسی فعالیت کو بیان کیا ہے ۔سیاسی امور تو بہت زیادہ ہیں لیکن یہاں پر ہم نے زیادہ فوکس انتخابات کو کیا ہے۔ واضح رہے کہ تحریک جعفریہ بین ہونے کے بعد سے اسلامی تحریک ،شیعہ علماء کونسل اور دفترقائد ملت جعفریہ پاکستان  کے عناوین سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ہم نے اپنے ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اسی موضوع پر  روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا  مختصر مگر جامع کام ہے جو بعد میں آنے والے محققین کیلئے پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

   مارشل لاء دور سے "ایم آر ڈی" کی تحریک میں شمولیت ہی تحریک جعفریہ کی سیاسی زندگی کا نقطہ آغاز ہے۔ قائد مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین نے محسوس کیا کہ جب تک جمہوریت کی بحالی نہیں ہو گی تب تک مذہبی حقوق کا تحفظ بھی ممکن نہیں۔ پھر انہوں نے اپنے آخری انٹرویو میں بحالیِ جمہوریت کی  تحریک ایم ۔آر۔ ڈی  کی حمایت  کااعلان کیا۔ بستر علالت پر  "روزنامہ جنگ "لاہور کو قائد  مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین نے ایک انٹرویو دیا۔ یہ انٹر ویو مرحوم قائد کی دور رس سیاسی بصیرت کا ثبوت بھی ہے اور تحریک کے آئندہ اقدامات کیلئے ایک لائحہ عمل بھی تھا۔

روز نامہ جنگ نے لکھا  :

  " تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قائد علامہ مفتی جعفر حسین نے کہا ہے کہ ایم۔ آر۔ ڈی پنجاب کے لیڈر راؤ عبدالرشید سے ان کی ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے جمہوریت کی بحالی کیلئے انہیں اپنے تعاون اور امداد کا یقین دلایا تھا۔"

" گجرانوالہ میں اپنے مکان پر "جنگ" سےایک خصوصی ملاقات میں انہوں نے کہا کہ مسٹر خاقان بابر نے اس ضمن میں جو بیان دیا ہے میں اس کی تردید کرتا ہوں ۔ انہوں نے بیان دے کر زیادتی کی ہے"۔

"اس سوال کے جواب میں کہ آیا راؤعبدالرشید سے آپکی گفتگو ایم ۔آر۔ڈی کے حوالے سے ہوئی تھی۔ مفتی جعفر حسین نے کہا کہ خاص تو کوئی بات نہیں ہوئی تھی لیکن جمہوریت کی بحالی اور مارشل لاء کے خاتمہ کی بات ہوئی تھی اور میں نے کہا تھا کہ ہم ہر اس جماعت کی حمایت کریں گے جو ملک میں جمہوریت کیلئے کام کرے۔میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ شیعہ فرقہ کی طرف سے ۱۴ اگست کی تحریک میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بحالی کیلئے کی جانے والی ہر جدوجہد کو ہماری حمایت حاصل ہے"۔

" ایک اور سوال کے جواب میں مفتی جعفر حسین نے کہا کہ اسلام میں مارشل لاء کی کوئی گنجائش نہیں اور جو حکومت اسلامی نہیں اس کے اقدامات کس طرح  اسلامی ہو سکتے ہیں۔"

"ایرانی انقلاب کے بارے میں مفتی صاحب نے کہا کہ یہ انقلاب اسلام کے نام پر آیا ہے۔اگرچہ عرب ریاستیں اسے شیعہ انقلاب  کہتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہ اسلامی انقلاب نہیں ہے ۔ انہوں نے اس الزام کو بھی غلط قرار دیا کہ ایران یا اس کے کسی اہلکار کی طرف سے پاکستان کی داخلی صورتحال میں کوئی مداخلت ہوئی ہے۔افغان مہاجرین کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں پناہ دینا تو ہمارا فرض تھا۔لیکن انہیں پاکستان کی سیاست امریکہ کی جانب نظر آتا ہے اور حکومت بھی اس سے انکار نہیں کرتی۔"

۱۴ اگست کوصدر ضیاءالحق کے مجوزہ اعلان کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ۱۹۷۳ ء کے آئین کو قائم رہنا چاہیے اور کسی نئے ڈھانچے کی ضرورت نہیں۔جب ایک متفق علیہ دستور موجود ہے، جسے چاروں صوبو ں کے نمائندوں نے بنایا ہے تو اس کی موجودگی میں کسی اور ڈھانچے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نےکہا ۱۹۵۶ ءکے آئین میں فرقہ وارانہ جذبات کے احترام کا زیادہ اہتمام تھا لیکن ۱۹۷۳ ء کے آئین کو قائم رکھنا چاہیے۔انہوں نے فقہی اختلاف کو ایک حقیقت تسلیم کرتے ہوئے کہا اتحادواتفاق قائم کرنا چاہیے۔ مذہبی اختلاف کو نفرت کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔یہ نہ دیکھا جائے کہ یہ شیعہ ہے یا سنی ہے بلکہ دوسرے کی فقہ کو برداشت کیا جائے۔ تعمیری باتوں کے علاوہ معاشی ومعاشرتی انصاف کی طرف توجہ دی جانی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ معیشت کو سُود سے پاک  نہیں کیا جاسکا۔نفع نقصان کی بنیاد پر جو کھاتے شروع کیے گئے ہیں یہ بھی کچھ نہیں ہیں ۔سودی کروبار چل رہا ہے۔اسلام نے عدل و احسان کا تصور دیا ہے ہمارے خیال میں اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔"

" مفتی صاحب نے کہا قیام پاکستان کے بعد جتنی شکایات ہمیں اس حکومت سے پیدا ہوئی ہیں اور کسی حکومت سے نہیں ہوئیں۔ اگرچہ یہ حکومت عادل ہوتی تو ہمیں شکایات پیدا نہ ہوتیں۔﴿ روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۱۰ جولائی ۱۹۸۳ ء و غضنفر علی کاظمی ،مفتی جعفر حسین مرحوم  صفحہ ۵﴾

جنرل ضیاءالحق نے جب ریفرنڈم کی حتمی تاریخ ۱۹ دسمبر ۱۹۸۴ء کااعلان کیا تو تمام جماعتوں سے پہلے تحریک  نفاذ فقہ جفریہ نے وزنی دلائل کے ساتھ ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور نشرواشاعت کے ذریعے ریفرنڈم کو رد کرنے کیلئے قوم سے اپیل کی۔ ﴿سفیر نور، صفحہ ۱۲۱ ﴾

بین الاقوامی سطح پر ضیاء الحق کے صدارتی ریفرنڈم کا پول بی بی سی نے یوں کھولا :

 "پاکستان کی عوام نے صدارتی ریفرنڈم کا مکمل بائیکاٹ کردیا اور بمشکل پانچ فیصد عوام نے ووٹ ڈالے"۔ ﴿ایضاً ۱۲۲ ﴾

اگرچہ ایم۔آر۔ڈی کے اراکین نے بھی ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا مگر سب سے موثر اور توانا آواز علامہ شہید عارف حسین الحسینی کی تھی جس کااعتراف  خود ایم ۔آر۔ڈی کے رہنماؤں نے کیا تھا۔ ﴿ایضاً ﴾

قائد شہید نے ایک کانفرنس میں واضح فرمایا کہ:

"ہم نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ملک کی دوسری جماعتوں سے رابطے کر کے آمریت کے خاتمے کیلئے لائحہ عمل تیار کرے گی"۔﴿ ایضاً﴾

اس سیاسی کمیٹی کے سیاسی امور میں مداخلت کے اعلان کے بعد علامہ سید عارف حسین الحسینی نے ملک گیر دورہ جات میں دین اور سیاست کے تعلق پرزور دیا اور اپنی قوم کو سیاست کی اہمیت کا احساس دلوایا۔آپ نے اس سلسلہ میں رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ کے مقام پر ایک اجتماع سے یوں فرمایا کہ:

"ہمارے دو قسم کے مسائل ہیں ایک شیعہ اور دوسرا پاکستان ہونے کے حوالے سے۔ اگر ہم نے مذہبی مسائل کو سیاسی مسائل سے ہٹ کر حل کرنا چاہا تو نتائج قطعاً مثبت نہیں نکلیں گے، چاہے ہم کچھ بھی کرلیں۔ کیونکہ یہ مسائل ایک دوسرے پراثر انداز ہوتے ہیں ۔ اگر ہم مسلکی سیاست اور بین الاقوامی امور میں اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے الگ تھلگ کر لیں تو یہ نہ صرف شرعی ذمہ داری سے انحراف ہو گا بلکہ یہ اسلام اور قرآن سے روگردانی ہو گی۔ اگر ہم نے سیاسی مسائل کو مذہبی مسائل سے دور ہو کر سوچا تو اس کے نتائج بھی بھیانک  ہوں گے۔لہذا دین اور سیاست کا ربط انتہائی گہرا ہے اور ہمیں ان دونوں کوساتھ لے کر چلنا ہو گا"۔﴿ایضاً ۱۲۶﴾

 اسی ضرورت کے پیش نظر  قائد شہید نے "قرآن وسنت کانفرنس "لاہورمیں برملااعلان کیاتھاکہ اب تحریک نفاذفقہ جعفریہ ملک کے مجبور ومحکوم مسلمانوں کے اجتماعی حقوق کی بحالی کے ساتھ ساتھ ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لئے جدوجہدکی راہ اختیار کرے گی" اس لئے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلامی ریاست میں رہنے کے ناطے سے ہمارا اولین فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو"قرآن وسنت "کی واضح ہدایات کے مطابق استوار کریں اورمملکت خدادادپاکستان کوباطل سامراجی نظریات سے نجات دلائیں آج ہمارے وطن عزیز میں امریکہ اورمغربی دنیا کا اثرورسوخ اتنا سنگین ہوچکاہے کہ ہمارے صاحبان اقتدارہرمعمولی سے معمولی مسئلے پربھی امریکی منشا کوملحوظ خاطررکھے بغیرقدم نہیں اٹھا سکتے،لہذا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تقدیرکے فیصلے وائٹ ہاؤس کے بجائے اسلام آباد میں ہی ہونے چاہئیں اسی طرح پاکستان کے ایوان (پارلیمنٹ) میں آج تک کوئی ایساشیعہ رکن نہیں پہنچاجوپارلیمنٹ کے اندرشیعہ مکتب کی ترجمانی کرسکے اور ملت جعفریہ کے حقوق کی نگہبانی کرتے ہوئے ملک کے تمام سیاسی ،اقتصادی ،معاشی اورمعاشرتی مسائل پرشیعہ نکتہ نظرکوپیش کرے۔   

  جہاں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنے قومی حقوق کی محافظت کی وہاں قائدشہید کے عظیم اہداف اورتحریک کے منشور کی روشنی میں که اب ہمیں شہری حقوق اورمذہبی آزادی کے حصول کے لئے سیاست میں آنا پڑے گااوراس سیاسی آوازکی ترجمانی کے لئے ایوان بالا میں ہمارے ترجمان نمائندگان کاوجودتحریک جعفریہ کی اہم ضرورت ہے قائدشہید کے اس عظیم مقصداورہدف کو حاصل کرنے کے لئے وقت کی ضرورت ،سیاسی تقاضوں اورحالات کے مطابق مختلف اندازمیں کوششیں کیں اورآج تک اس راہ کے راہی ہیں ۔
ان حالات میں جب معاشرے کی عمومی سوچ یه ہوکہ سیاست میں حصہ لینا اورسیاسی امیدوار بننا فقط دنیوی لوگوں کوہی زیب دیتا ہے اس لئے کہ پاکستان کے اس ماحول میں دیندارتو جیت ہی نہیں سکتااوراگرجیت بھی جائے تواسے سیاست کرناہی نہیں آئے گی اسی طرح کچھ سیاسی امیدواربھی یہی سمجھتے ہوں کہ مذہبی امیدواربننے سے ہم نہ ادھرکے رہیں گے اورنہ ادھرکے بلکہ مولویوں کے بقول کہ دین بھی گیا توآخرت بھی گئی والی مثال بن جائے گی اوروقت کے سیاسی ڈکٹیٹربھی اطمینان سے کہیں کہ شیعوں کے ووٹ توہماری جیب میں ہیں تواس صورتحال میں سیاسی میدان اور الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کربلاوالوں کی سیرت پرعمل کرتے ہوئے عزم راسخ اوربلندہمت کی ضرورت تھی ۔
قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی جو کہ بہت ہی ذہین ،دوراندیش اور اجتماعی ذہنیت کے مالک ہیں تحریک جعفریہ کی قیادت سنبھا لتے ہی اپنے قائدین کی سیاسی پالیسیوں اوروقت کی اہم ضرورت کے مطابق ، قومی وملی خدمات کے اس سفر کے آغاز میں ہی ملکی سیاست میں عملی طورپر حصہ لینے کا اعلان کردیا ۔
جس کے نتیجہ میں نومبر ١٩٨٨ ء کو جب عام انتخابات کااعلان ہوا توقائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنے قومی پلیٹ فارم سے انتخابات میں مشارکت کااعلان کیا جبکہ ایک طرف سے شریعت بل کامسئلہ بھی اپنی جگہ پرباقی تھاتودوسری طرف سے اتنے بڑے سیاسی قدم اٹھانے کے لئے مکمل طورپرقومی تیاری بھی نہ تھی ان تمام مسائل ومشکلات کے باوجود قائدشہید کے فرمان اورتحریک کے اعلان شدہ منشورپرعمل کرتے ہوئے حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی نے "تختی" کے انتخابی نشان پرتحریک جعفریہ کے اپنے ذاتی تشخص کے ساتھ شیعہ ووٹ کاسٹ کرانے کا اعلان کیا۔
اس موقع پرتحریک کے سرکردہ رہنماشہید ڈاکٹر محمدعلی نقوی نے فرمایا:

"انتخابات میں کامیابی اپنی جگہ مہم ہے لیکن اس سے بڑھ کر اہمیت کی بات یہ ہے کہ برصغیر کے کسی ملک میں پہلی بار شیعہ جماعت انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اوریہ سیاسی ا قدام ہماری آئندہ کی سیاست پراثراندازہوگا '' ۔ ﴿ تسلیم رضا خان ، سفیر  انقلاب صفحہ ۱۴۴ ،اشاعت اول ۱۹۹۶ ء ﴾

اگرچہ معروضی حالات کے پیش نظرہمیں اس الیکشن میں بظاہروہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی مگراس وقت کے حالات کونظرمیں رکھا جائے توحقیقت میں تحریک جعفریہ اپنے ہدف میں کامیاب ٹھہری کیونکہ اس وقت قومی قیادت اورتحریک کااصلی ہدف فقط یہ تھاکہ حکمرانوں کے سامنے ثابت کیاجائے کہ مکتب اہل بیت کے ماننے والے بھی اس ملک کے باسی ہیں اوریہ کہ نہ فقط شیعیان حیدرکرار اقلیت میں ہیں بلکہ ایک                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                   مستقل قوم ہے جو ملک میں اپنا سیاسی ومذہبی کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے ۔
صدر غلام اسحاق خان نے آٹھویں ترمیم کی بنیادپراگست ١٩٩٠ء میں بینظیرحکومت کو ڈیزالو کرنے کے بعدجب تین ماہ کے اندر الیکشن کروانے کااعلان کیا تو (ppp)نے پیش آمدہ حالات کامقابلہ کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے بڑھائے اور بینظیر نے سب سے زیادہ اہمیت تحریک نفاذفقہ جعفریہ کودی یہاں تک کہ بینظیر نے کئی بارتحریک کے اکابرین کو (ppp) میں ضم ہونے کی دعوت دی ۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے حالات کاجائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے رفقاء اورتحریک کے اکابرین کے ساتھ ضروری مشورہ کرنے کے بعد (ppp) کی سربراہی میں بننے والے(p.d.a) اتحادکے ساتھ شامل ہونے کااعلان کیاجس میں تحریک استقلال اور مسلم لیگ (قاسم گروپ) بھی شمولیت اختیارکرچکی تھی۔

  شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی  نے اپنے ایک انٹرویو میں اسی اتحاد کے بارے  کئے گئے ایک سوال کے جواب میں  فرمایا :

"ہم فرقہ کی سطح سے اٹھ کر  سیاست کی وسیع سطح پر پہنچے ہیں اور ملک کے بڑے سیاسی اتحاد میں اپنا تشخص بطور سیاسی جماعت پیش کیا ہے"۔

﴿تسلیم رضا خان، سفیر انقلاب صفحہ ۱۴۸ ،اشاعت اول ۱۹۹۶ ﴾
اس سیاسی اتحادمیں شمولیت کے بعدقائدملت جعفریہ اورتحریک کے تمام کارکنان (p.d.a) کی ٹکٹ پرتمام امیدواروں کے لئے سرگرم عمل ہوگئے ۔ملکی پالیسی کے پیش نظر(p.d.a) کے مدمقابل "اسلامی جمہوری اتحاد"کوکامیاب قراردے دیاگیااوراس طرح سے نواز شریف ملک کے وزیراعظم بن کرسامنے آگئے ۔ ﴿تسلیم رضا خان ،سفیر انقلاب  صفحہ ۱۴۹ ﴾

۱۹۹۱ءمیں نواز حکومت نے مہتاب احمد خان کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات کا وزیر مقرر کیا  ۔ اسی سال وہاں الیکشن کرانے کا علان بھی کر دیا ۔الیکشن کے ایام قریب ہی تھے کہ نواز حکومت کی طرف سے انتخاباتی حلقہ بندی میں بلاجواز تبدیلی کی گئی کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے امیدواروں کی کامیابی یقینی تھی تو  تحریک جعفریہ  شمالی علاقہ جات کے مسؤل علامہ مرحوم شیخ غلام محمد کے حکم پر عوام نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اور نواز شریف حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر دیں۔

﴿محمد یوسف حسین آبادی،تاریخ بلتستان  صفحہ۳۰۵،تحریک جعفریہ پاکستان ۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ صفحہ ۷۹﴾

دوسال کے بعد نوازحکومت کی بھی چھٹی کرادی گئی اورملک کی سربراہی نگران حکومت کے حوالے کر دی گئی ۔تحریک جعفریہ کی صاف وشفاف اورملک میں امن پالیسی کی وجہ سے  منیرحسین گیلانی مسؤل سیاسی امور تحریک جعفریہ پنجاب   کو وزارت تعلیم سونپی گئی ۔﴿ سفیر انقلاب کے صفحہ ۱۴۹ پر اس بارے اشارہ ہوا ہے﴾ 
نومبر ۱۹۹۲ ء میں تحریک جعفریہ پاکستان نے تاریخی لانگ مارچ کیا جس کے نتیجے میں انتخابات ۹۳ ء کا انعقاد ممکن ہوا۔ جب محترمہ بینظیر بھٹو کوآنے والے انتخابات میں کامیابی کی یقین دہانی کرائی گئی تومحترمہ نے (p.d.a) سے علیحدگی کا اعلان کردیا جس کی وجہ سے تحریک جعفریہ نے بھی ١٩٩٣ء کے قومی انتخابات میں لوکل ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے حمایت یافتہ امیدوارکامیاب کرانے کیلئے الیکشن پالیسی مرتب کی۔۱۹۹۳ کے انتخابات میں تحریک جعفریہ  کے صوبہ سرحد کے سیاسی سیل کے ممبر مخدوم زادہ  مرید کاظم صوبائی اسمبلی میں کامیاب ہوئے جو بعد میں صوبائی وزیر بنائے گئے۔ صوبہ پنجاب میں تین نشستوں پر پی پی پی کو شکست دی گئی اور  تحریک کے حمایت یافتہ تین  تین ممبران قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں پہنچے اور وہاں تحریک کا مؤقف پہنچاتے تھے۔ صوبہ بلوچستان میں تحریک کے تعاون سے محمود اچکزئی جیت گئے۔ ﴿تحریک جعفریہ پاکستان،۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ صفحہ ۲۵﴾

لیہ میں تحریک کے امید وار اللہ بخش سامٹیا صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔﴿ انٹرویو علامہ غضنفر علی حیدری آف لیہ ﴾
١٩٩٤ء میں سینٹ کے انتخابات میں حصہ لے کرصوبہ سرحد سے ایک سینیٹر منتخب کرایا اوراس طرح سے تحریک جعفریہ کے قومی پلیٹ فارم پر  علامہ جواد ہادی صاحب پاکستان کی تاریخ میں پہلے شیعہ عالم دین جوعمامہ،عباوقباکے ساتھ روحانی وعالمانہ لباس میں ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے۔﴿ایضاً کارکردگی رپورٹ  صفحہ ۲۷﴾

ایوان بالا میں فرقہ واریت کے خلاف سینٹ کے ۵۲ ویں اجلاس میں "تحریک التوا " پیش کی اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے جو حکمت عملی اختیار کی گئی اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ تحریک کی جامع اور بھر پور لابنگ کی بدولت یہ "تحریک التواء" آؤٹ آف ٹرن ایوان میں زیر بحث لانے کیلئے منظور کی گئی۔ ﴿ایضاً صفحہ ۳۳ ﴾

۶ مئی ۱۹۹۴ ء کو صوبہ سرحد میں ایک صوبائی نشست پی ایف ۲۹ پر ضمنی الیکشن کاجب اعلان ہوا تو ٹی جے پی کی مخالفت کی وجہ سے پی پی پی یہ ضمنی الیکشن ہار گئی او ر ٹی جے پی کے خلاف زبردست غم و غصے کا اظہار کیا۔ ﴿ علامہ سید جواد ہادی  سابق سنیٹر ، مقالہ ،پی پی پی اور ٹی جے پی کے تعلقات کا اجمالی جائزہ ، مجلہ تحریک ، دسمبر ۱۹۹۵ ء صفحہ ۲۳ ﴾

تحریک جعفریہ پاکستان نے شمالی علاقہ جات میں آئینی حقوق کی بحالی اور خطے کے عوام کے احساس محرومی کے خاتمے کیلئے طویل جدوجہد کی چنانچہ انہی کوششوں کے نتیجے میں  نگران وزیر اعظم معین قریشی کی جانب سے ان علاقوں میں آئینی اصلاحات کا ایک  سیاسی پیکیج سامنے آیا۔   
 جب  پی پی پی کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو معمولی سے ردوبدل کے ساتھ اس پیکیج کے تحت شمالی علاقہ جات میں جماعتی بنیادوں پر  الیکشن کرانے کا اعلان کیاجس کے تحت ۲۵ اکتوبر ۱۹۹۴ ء کو ۲۴ نشستوں کیلئے عام انتخابات کا فیصلہ ہوا۔﴿ایضاً   و تحریک جعفریہ پاکستان ۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ صفحہ ۱۷ و ۷۹﴾

قائدملت جعفریہ کے حکم پر تحریک جعفریہ نے انتخابات میں بھرپورحصہ لینے کااعلان کردیا اوراپنا انتخابی نشان پھول  متعارف کرایا ۔اس طرح شمالی علاقہ جات میں پہلی بارپی پی پی،مسلم لیگ اورتحریک جعفریہ کا سخت سیاسی مقابلہ دکھائی دینے لگاجب شمالی علاقہ جات میں الیکشن ورک کے لئے خودقائدملت جعفریہ پہنچے توتحریک جعفریہ کے لئے وہ لحظات تاریخی لحظات تھے قائدملت کے اس طوفانی دورہ کے نتیجہ میں اکتوبر۱۹۹۴ء کے شمالی علاقہ جات کے انتخابات میں تحریک جعفریہ کی بھاری کامیابی نے تمام سیاسی پارٹیوں کوحیران کردیاکیونکہ رزلٹ کے مطابق ٢٤سیٹوں میں سے تحریک جعفریہ نے ٨سیٹیں حاصل کیں جبکہ پپلزپارٹی ٧، مسلم لیگ ١  اورمختلف آزادامیدواروں نے ٨ سیٹیں حاصل کیں ۔
تحریک جعفریہ کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نام اس طرح سے ہیں:
١۔سیدرضی الدین رضوی     حلقہ نمبر١        گلگت
٢۔ڈاکٹرمحمداقبال          حلقہ نمبر٣        گلگت
٣۔شیخ غلام حیدر           حلقہ نمبر٤        نگر
٤۔میرشوکت علی خان      حلقہ نمبر٥        گلگت
٥۔پروفیسرغلام حسین سلیم  حلقہ نمبر٧        سکردو
٦۔سیدمحمدعباس رضوی     حلقہ نمبر٨        سکردو  
٧۔صادق علی         حلقہ نمبر١٠        روندو
٨۔حاج محمدحسین     حلقہ نمبر١٢          شگر
اس بڑی کامیابی کی وجہ سے ہمارے دوکامیاب امیدواروں ''جناب پروفیسرغلام حسین سلیم اورسیدرضی الدین رضوی کو کا بینہ میں وزراء کا مشیر قراردیاگیا۔﴿ انٹرویو پروفیسر غلام حسین سلیم سابق مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل  تحریک جعفریہ پاکستان و تاریخ بلتستان صفحہ ۳۸۸ و  تحریک جعفریہ پاکستان ،۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ﴾

 تحریک نے ۲۵ نومبر ۱۹۹۴ ء میں "عظمت اسلام کانفرنس " کا انعقاد مینار پاکستان لاہور پر کیا  ۔ میں نے علامہ سید افتخار حسین نقوی سابق مرکزی سیکرٹری جنرل تحریک جعفریہ پاکستان کا ایک خصوصی انٹرویو  تحریک جعفریہ کے موضوع پر کیا ہے۔ میں نے ان سے ایک سوال کیا کہ تحریک کو " عظمت اسلام کانفرنس"  کے انعقاد کی کیوں ضرورت پیش آئی تو انہوں نے اپنے جواب میں کہا :

  "دہشت گردی   اور شیعہ مکتب فکر کو کافر قرار دینے کی بھونڈی سازشوں کا قلع قمع کرنے کیلئے ہم نے اس کانفرنس کا انعقاد کیا ۔اس کے علاوہ اپنی ملت کو متحرک کرنا ،اپنا وجود منوانا،تحریک کی سیاسی قوت کا اظہار ،اپنی موجودہ قیادت کا استحکام و تائید اور تحریک کے سیاسی افکار و نظریات کو بیان کرنا  جیسے امور ہمارے اہداف  کا حصہ تھے"۔

میں نے ان سے ایک اور  سوال کیا کہ   تحریک جعفریہ کی تاسیس سے لیکر اب تک تحریک کے جتنے بھی اجتماعات ہوئے ہیں ان میں سے سب سے بڑا اجتماع کونسا تھا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا : "عظمت اسلام کانفرنس"﴿ انٹر ویو علامہ سید افتخار حسین نقوی ۲۰۱۰ ء﴾                                                                                      
١٩٩٧ ء کے عام انتخابات میں تنظیم کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی الحاق کرکے انتخابی نشان شیرکے  تحت انتخابات میں حصہ لیا۔اس انتخابات میں دیگرفتوحات کے علاوہ عظیم کامیابی یہ تھی کہ جھنگ کے حلقہ سے فرقہ پرستوں کے سرغنہ اعظم طارق کوبری شکست دے کراپنے امیدوار  جناب امان اللہ سیال کو کامیاب کرایااس الیکشن میں تحریک جعفریہ کے الحاق واشتراک کی وجہ سے مسلم لیگ کو بھی تاریخی اوربھاری مینڈیٹ ملی۔۱۹۹۸ء میں ایک بارپھرفاٹاسے ایک اورعالم دین علامہ عابدحسین الحسینی کواسی روحانی وعالمانہ لباس میں سینٹ کا رکن منتخب کرایا جس کے نتیجہ میں تحریک جعفریہ کی نمائندگی میں دوشیعہ عالم ایوان بالا کے رکن بنے ۔

﴿دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان ، رپورٹ ، نگاہی گزرا بر شخصیت نمائندہ ولی فقیہ و رہبر شیعیان پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی، مشاہدات ﴾

 آزاد کشمیر کے انتخابات میں "مسلم کانفرنس" سے اتحاد کر کے سیاسی میدان میں بھر پور کردار ادا کیا۔ ﴿شعبہ نشرواشاعت ،تحریک جعفریہ پاکستان ، تعارف، کارکردگی ،وضاحت صفحہ ۱۰﴾

  ۱۹۹۹ ء کوشمالی علاقہ جات میں انتخابات کااعلان ہواتوتحریک جعفریہ نے  ایک بارپھر بھرپور اندازسے انتخابات میں حصہ لینے کااعلان کردیا جس کے  نتیجہ میں تحریک جعفریہ کے مندرجہ ذیل امیدوارکامیاب ہوئے:
١۔سیدمحمدعباس رضوی سکردو
٢۔عمران ندیم شگر
٣۔سید محمد علی شاہ کھرمنگ
٤۔دیدار علی گلگت
٥۔غلام رضا  گلگت ﴿انٹرویو پروفیسر غلام حسین سلیم ، تاریخ بلتستان صفحہ ۳۸۸﴾
٢٠٠٠ء میں ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کی سیٹ کے لئے تحریک جعفریہ کے بلامقابلہ امیدوارحاج فدامحمدناشادجیت کرءشمالی علاقہ جات  کےڈپٹی چیف ایگزیکٹو منتخب ہوئے ۔ ﴿تاریخ بلتستان صفحہ ۳۱۴ ﴾
٢٠٠١ ء میں شمالی علاقہ جات کی صوبائی کابینہ کے لئے تحریک جعفریہ کے پلیٹ فارم سے جناب  علامہ شیخ غلام حیدراورعمران ندیم کوکابینہ میں بعنوان مشیر وزیرانتخاب کیاگیا۔ ﴿ایضاً ۳۱۵ ﴾
اس طرح سے مختلف انتخابات کے مواقع پر قائدشہیدکے خوابوں کوشرمندہ تعبیرکرتے ہوئے قائدملت کی طرف سے ٹکٹ حاصل کرنے والے نمائندگان ایوان بالا تک پہنچے یہاں تک کہ قائدملت جعفریہ کی تدبیر کے نتیجہ میں شمالی علاقہ جات میں تحریک جعفریہ کے منتخب نمائندگان کوحکومتی اختیارات بھی ملے۔
٢٠٠٢ ء کے انتخابات میں دینی ومذہبی جماعتوں سے (اسلامی تحریک کے عنوان سے) اتحاد کے نتیجہ میں "متحدہ مجلس عمل" کوبھاری اکثریت سے ووٹ ملے جس کے نتیجہ میں مکمل طورپرسرحدصوبے میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہوئی تو تحریک کے  تین صوبائی امیدوار کامیاب ہوئے اور ایک خاتون کو  قومی اسمبلی میں نشست ملی علامہ رمضان توقیرصاحب سرحدحکومت میں مشیروزیراعلیٰ کی ذمہ داری انجام دیتے رہے صوبہ سرحد کے علاوہ بقیہ صوبائی حکومتوں میں بھی متحدہ مجلس عمل کی بڑی حیثیت تھی اوراس طرح سے متحدہ کی کامیابی میں اسلامی تحریک کابہت بڑاعمل دخل تھا۔ ﴿علامہ سید ساجد علی نقوی ، شیعیان و چالش ھای پیش رو در پاکستان ،فصل نامہ شیعہ شناسی،سال سوم شمارہ ۱۰ ،تابستان ۱۳۸۴ صفحہ ۲۱۸۔۲۱۹  و انٹرویو ز علامہ سید سجاد حسین کاظمی ،سردار کاظم علی حیدری ۲۰۱۰ ء﴾

۲۰۰۷ ء میں متحدہ  مجلس عمل میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام﴿ ف﴾ کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ۔اور اسی سال محترمہ بینظیر بھٹو کا بھی قتل ہوا چند ماہ بعد الیکشن کا اعلان ہوا تو جماعت اسلامی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جبکہ ایم ایم اے میں شریک باقی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لیا ۔ایم ایم اے کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کیلئے امیدواروں کو دستخطوں کی ضرورت پڑی تو قائد ملت جعفریہ نے قائم مقام صدر ہونے کی حیثیت سے ان کے الیکشن  فارمز پر دستخط کئے۔ اس الیکشن میں ایم ایم اے  پہلے کی طرح تو کامیاب نہ ہوسکی لیکن پھر بھی کسی حد کامیاب ہوئی اور سرحد صوبائی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں میں سے ایک  نشست تحریک کے حصے میں بھی آئی ۔  ﴿انٹر ویوز  علامہ سید عبدالجلیل نقوی، علامہ سید سجاد حسین کاظمی﴾    

پی پی پی حکومت نے شمالی علاقہ جات کو گلگت و بلتستان کے نام سے صوبہ نما بنانے کے بعد ۱۲ نومبر ۲۰۰۹ ء کو وہاں پر انتخابات کرانے کا علان کر دیا  ۔اس موقع پر تحریک پر پابندی تھی جس کے نتیجے میں تحریک ایک جماعت کے طور پر الیکشن میں حصہ نہ لے سکی لیکن تحریک کے تین رہنماؤں  نے آزاد امید وار کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا ۔الیکشن سے چند روز قبل علامہ شیخ غلام حیدر  کہ جن کی کامیابی حتمی تھی  کا دار فانی سے دار بقا کی طرف انتقال ہو گیا۔ اور باقی دو امیدوار  سید رضی الدین رضوی اور جناب دیدار علی صاحب  کامیاب  ہوئے۔

﴿ قم المقدسہ ،انٹرویو علامہ شبیر صابری نمائندہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی ، مشاہدات ﴾   
  انتخابات میں شرکت کےساتھ تنظیمی طور پر اور عوامی سطح پر تحریک نے سیاسی عمل میں بھر پور حصہ لیا۔دعوی سے کہا جا سکتا ہے کہ سامراج کے اثر و رسوخ کو روکنے میں تحریک جعفریہ نےاہم کردار ادا کیا اور اسلحہ کے استعمال کے بغیر عوامی طاقت سے اپنے مقاصد حاصل کئے اور سامراجی قوتوں کے ناجائز کاموں کو روکا ہے۔اسرائیل جیسی غاصب حکومت کو تسلیم کرنے کے خلاف،گوادربندرگاہ کا مسئلہ،سیسمک سینٹر،امریکیوں کو برتھیں دینے کا معاملہ،ایمل کانسی اور ایاز بلوچ کی گرفتاری،اغیار کی ثقافتی یلغار،دہشت گردی کے خلاف جہاد، نیشنل اور انٹر نیشنل آل پارٹیز کانفرنسز میں موجودگی،ملک میں امن وامان کے قیام اور  وحدت و اخوت کا قیام کے سمیت تحریک جعفریہ نے کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر اپنا بھر پور کردار ادا کیا ۔یہ تمام جمہوری اور عوامی انداز میں کیا۔مذکورہ معاملات اور ان جیسے دیگر تمام مسائل میں عوامی آواز نے تحریک کا بھر پور ساتھ دیا۔

اتنی محنت،  کاوشوں اور تحریک کے اعلیٰ دینی ،سیاسی اور ملکی مقام سے خائف ہمارا دشمن ہماری وحدت،ہماری قیادت کی بصیرت،ہماری اسلامی یکجہتی کے لئے کی جانے والی کوششوں،ہمارے نظریہ ولایت فقیہ،علماۓ کرام کی بصیرت افروز قیادت،پاکستان میں ہمارے زبر دست کردار،قومی دھارے میں ہماری موجودگی،ہماری استعمار دشمنی اور سامراج مخالف پر مبنی پالیسیوں اور ہمارے روشن مستقبل سے خوفزدہ ہے اس لئے آئے روز ہمیں اپنی قیادت سے نفرت دلا کر،ہماری قیادت اور پلیٹ فارم کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کر کے،ہمیں آپس میں لڑا کر،باہم دست و گریبان کر کے،ہمیں ایک دوسرے سے بد اعتماد کر کے،نوجوانوں کو علماۓ کرام سے بد گمان کر کے،نظریہ ولایت فقیہ سے ہٹا کراور ڈیڑھ اینٹ کی نئی مساجد  بنا کر ملت جعفریہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔

  ان حالات میں ہمیں اپنی قیادت اور پلیٹ فارم کو مضبوط کر کے ،نوجوانوں کو علماء کے قریب لا کر ،قیادت اور پلیٹ فارم کے خلاف اٹھنے والی ہر منفی آواز کا جواب دے کر،ملی وحدت کو زیادہ مضبوط کر کے،نظریہ ولایت فقیہ پر کامل ایمان رکھ کر،علماۓ کرام کے وقار میں اضافہ کر کے،آپس میں غلط فہمیوں کو دور کر کے،دشمن کی سازشوں کا ادراک کر کے،ایک با بصیرت مومن کی مانند،با وقار طریقے سے صبر و حکمت کا ہتھیار لے کر حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا۔اور اپنے دشمن کو ناکام بنانا ہو گا۔

اس وقت پابندی کے باوجودپاکستان کی تمام مقتدرسیاسی مذہبی قوتوں سے قائدملت جعفریہ کے تعلقات اورروابط موجودہیں اور  قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی کی ملک وملت کے مفادمیں مثبت ،صاف وشفاف سیاست کی وجہ سے تمام سیاسی جماعتیں شیعہ علماء کونسل کو پاک وپاکیزہ جماعت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اس طرح سے برابری کی سطح پرمذاکرات اورقومی وبین الاقوامی مسائل پر گفت وشنید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

 

    شیعہ علماء کونسل پاکستان قومی و ملی پلیٹ فارم ہے اس کی مضبوطی خود ہماری اپنی مضبوطی ہے ۔اس پلیٹ فارم کو کمزور کرنا خود اپنے آپ کو کمزور کرنا ہے ۔لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم ولی امر مسلمین ،ولی فقیہ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہٰ ای مدظلہ اور پاکستان میں ان کے نمائندہ قائد ملت جعفریہ،شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ  علامہ سید ساجد علی نقوی سے اپنے آپ کو مربوط رکھتے ہوئے مکمل ہم آہنگی،اخوت و وحدت،محبت ،حوصلے اور اسلامی جذبے کے تحت اس پلیٹ فارم پر ملت کے مسائل کے حل،مکتب تشیع اور عزاداری سیدالشہداؑ کے تحفظ اور پاکستان میں ملت جعفریہ کے حقوق کی جدوجہد کو جاری رکھیں ۔ یقیناً خداوند تعالیٰ ہمارے ساتھ اور امام زمانہ ؑہمارے حامی و ناصر ہوں گے۔

پاکستان کی سیاسی جماعتیں

آل پاکستان مسلم لیگ  · عوامی نیشنل پارٹی · بلوچ نیشنل موومنٹ · بلوچستان نیشنل پارٹی · متحدہ مجلس عمل (جمعیت علمائے اسلام · جماعت اسلامی · جمیعت اہل حدیث · جمیعت علمائے پاکستان · تحریک جعفریہ)  · جمہوری وطن پارٹی · متحدہ قومی موومنٹ · جموں کشمیر پیپلز پارٹی · نیشنل پارٹی · نیشنل پیپلز پارٹی · پختونخوا ملی عوامی پارٹی · پاکستان مسلم لیگ · پاکستان مسلم لیگ (ج) · پاکستان مسلم لیگ (ف) · پاکستان مسلم لیگ (ن) · پاکستان مسلم لیگ (ق) · پاکستان مسلم لیگ (ض) · پاکستان پیپلز پارٹی · پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) · پاکستان تحریک انصاف · پاکستان عوامی تحریک

     

انسان دوست وبلاگ: ۱۴ مئی ۲۰۱۲ ء ۔ اسلام کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ اس کی سب سے عظیم کتاب قرآن حکیم میں سب سے زیادہ جس چیز پر تاکید کی گئی ہے وہ تعلیم و تربیت ہے اس پر گواہ قرآن کی پہلی وحی جو اقراء سے شروع ہوتی ہے اور تمام انبیاء کے مشترکہ اہداف میں سے ایک عظیم ہدف تعلیم وتربیت رہا ہے اسی لئے پیغمبر گرامی اسلا مؐؐ  کے فرمودات میں یہ چیز ملتی ہے کہ آپ نے تعلیم کو کسی خاص زمان و مکان اور سن وسال سے مقید نہیں فرمایا اور ارشاد فرمایا اطلبو العلم و لو کان بالصین یعنی علم حاصل کرنے میں کسی جغرافیائی حدود کی قیدوبند کی ضرورت نہیں اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا اطلبوالعلم من المھد الی اللحد یعنی حصول علم میں کسی سن وسال کی کوئی قید نہیں ہے۔  

    اسی چیز کے پیش نظرتحریک نے محسوس کیا تھا کہ قوم کا تعلیمی معیار حوصلہ افزاء نہیں ہے کیونکہ مقابلے کے امتحانات اور غیر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے امیدوار بہت کم منظر عام پر آتے تھے۔ تحریک اس نتیجہ پر پہنچی کہ قوم کے بچوں کی بنیادی تعلیمی سطح کمزور ہے۔ چنانچہ  تحریک نے  اس اساس کو مستحکم کرنے کیلئے "اسلامک ایجوکیشنل کونسل" کے تحت   اکثریتی شیعہ آبادی والے علاقوں میں مقامی افراد سے رہنمائی لے کر ملت جعفریہ کو باعزت بنانے کیلئے ،قوم کو جہالت سے نکالنے کیلئے اور تعلیمی سہولتیں مہیا کرنے کیلئے۱۹۹۰ ء میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر اسکولز قائم  کئے۔  ﴿تحریک جعفریہ پاکستان، ۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ صفحہ ۳﴾

  اسی ایجوکیشنل ادارے کا نام پہلے "اسلامک ایجوکیشنل کونسل" تھا جسے بعد میں قائد محترم کی ہدایت پر ایک آزاد اور غیر سیاسی ادارہ  "پاکستان ایجوکیشنل کونسل "کا نام دے دیا گیا۔﴿انور علی آخونزادہ، تحریک جعفریہ پاکستان۔  تعارف ، کارکردگی  اور وضاحت  صفحہ ۱۰۔۱۱ ﴾

 یہی کونسل ملک کے دیگر شہروں کے علاوہ شمالی علاقہ جات میں بھی محروم اور پسماندہ عوام کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں مصرو ف عمل ہے اس کونسل کے زیر انتظام مختلف تعلیمی اداروں کا قیام ،تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وظائف کا اجراء قومی زندگی کیلئے اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

  اسکولز کے قیام کے وقت تحریک کا بنیادی نظریہ تھا کہ اپنا پیغام پہنچانے کیلئے ضروری ہے کہ قوم تعلیم یافتہ ہو تاکہ وہ عہد حاضر کے تقاضوں کا صحیح ادراک کر سکے۔ اس کونسل کے جتنے بھی تعلیمی ادارے ہیں ان سب میں قرآن اور اسلامی کتب کی بھی تعلیم دی جاتی ہے  یہی وجہ ہے کہ جب یہاں کا اسٹوڈنٹ میٹرک پاس کرتا ہے  اور معاشرے میں داخل ہوتا ہے تو وہ احکام شرعی سے بھی کافی حد تک  آگاہ ہو چکا ہوتا ہے۔ تحریک چاہتی تھی کہ تعلیم دینی ہو یا دنیوی  ملت کو ہر صورت میں اس طرح تعلیم یافتہ ہونا چاہیے کہ اس کی پہچان علم کے ساتھ ہو کیونکہ ملت جعفریہ  "باب العلم"کی پیرو  ہے۔        

پاکستان ایجوکیشنل  کونسل کے زیر انتطام چلنے والے چندا سکولز کے نام درج ذیل ہیں:

۱۔ انڈس ماڈل سکول میانوالی

۲۔ جناح پبلک سکول  اٹک

۳۔ المصطفی ماڈل  سکول فیصل آباد

۴۔ المصطفی ماڈل سکول چنیوٹ

۵۔ المصطفی ماڈل سکول شیعہ میانی ملتان

۶۔ المصطفی گرلز سکول  گون بلتستان

۷۔ المصطفی ہائر سیکنڈری سکول  سکردو

۸۔ الزہرا ماڈل سکول غواری بلتستان

۹۔ الزہرا ماڈل سکول کندس کرمنی بلتستان

۱۰۔ الزہرا ماڈل سکول کوینس  بلتستان

۱۱۔ المصطفی پبلک سکول کندس بلتستان

۱۲۔ المصطفی پبلک سکول  بغاردو بلتستان

۱۳۔ المصطفی پبلک سکول  قمراہ بلتستان

۱۴۔ المصطفی پبلک سکول  مہدی آباد بلتستان

۱۵۔ الزہرا ماڈل سکول بغاردو بلتستان

۱۶۔ المصطفی پبلک سکول سینو بلتستان

۱۷۔ المصطفی پبلک سکول  کورو بلتستان

۱۸۔ المصطفی پبلک سکول طورمک بلتستان

۱۹۔ المصطفی پبلک سکول شوت  بلتستان

۲۰۔ العصر پبلک سکول  قاسم آباد گلگت

۲۱۔  ٹیکنیکل سکول بھکر  ﴿پاکستان ایجوکیشنل کونسل ایک نظر میں  صفحہ ۲۔۳ ﴾     

۲۲۔ المصطفی کالج لاہور ﴿تحریک جعفریہ پاکستان ، ۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ  صفحہ ۳﴾

  یہ تمام ادارے تا حال موجود ہیں اور قائد ملت جعفریہ  کی رہنمائی میں  خدمات انجام دے رہے ہیں ۔اس وقت  "پاکستان ایجوکیشنل کونسل" کی مسؤلیت جعفری صاحب کے پاس ہے۔ قائد ملت جعفریہ کی سرپرستی میں قائم انڈس ماڈل سکول ماڑی انڈس میں ضلع میانوالی کیلئے30 کنال اراضی خرید ی جا چکی ہے۔ ﴿تحریک جعفریہ پاکستان، ۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ صفحہ ۳﴾

واضح رہے کہ میں نے یہاں پہ 22 اسکولز کے نام دئےہیں لیکن قائد ملت جعفریہ پاکستان  علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب کا ایک انٹرویو میرے پاس ہے اس میں انہوں نے ٹوٹل تعداد 30 بتائی ہے  لیکن میں مذکورہ اسکولز تک ہی اطلاعات حاصل کر سکا۔            

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں ہزاروں طلبا زیر تعلیم ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کا شیعہ طلبا سے الجھنا اچھا نہیں۔ جماعت اسلامی سے مل کر ہم نے 1994ء کے واقعہ کو سلجھایا تھا اور اب بھی پنجاب یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا ہے، اسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تعلیمی اداروں میں پرامن ماحول ضروری ہے۔ تنظیموں کو چاہیے وہ بھی شرپسندوں کو اپنی صفوں میں نہ گھسنے دیں۔ امام حسین علیہ السلام سب کے ہیں۔ اس پر یوم حسین ع کی مخالفت افسوسناک ہے، یونیورسٹی انتظامیہ کو روکے گئے پروگرام کا ازالہ کرنا چاہیے۔ قائد ملت کہنا تھا کہ ہم اپنے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ چاہے جتنی قربانیاں ہی کیوں نہ دینی پڑیں۔ 
ایک سوال کے جواب میں قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ ہماری سیاسی حکمت عملی کا محور امت مسلمہ کی وحدت، تشیع کے حقوق کا تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف امن پسند قوتوں کا ساتھ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی میدان کو خالی نہیں چھوڑیں گے۔ اسے عبادت سمجھتے ہیں۔ قائد ملت کاکہنا تھا کہ سیاسی میدان میں آنے کا فیصلہ شہید عارف الحسینی نے کیا، جسے ہم نے جاری رکھا اور تشیع کے حقوق کا تحفظ پارلیمان کے اندر اور باہر کیا اور توفیق خداوندی سے اسے نامساعد حالات کے باوجود جاری رکھیں گے۔ 
علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ لولی لنگڑی جمہوریت بہترین آمریت سے بدرجہا بہتر ہوتی ہے۔ پاکستان کے ماحول کے مطابق جمہوریت کو مستحکم ہونا چاہیے اور اس کے لئے تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا 1973ء کے آئین پر اتفاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ میمو سکینڈل کے عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی صورت حال واضح ہو گی کہ موجودہ حکومت کا مستقبل کیا ہے اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی ہمیں کیا اختیار کرنی چاہیے۔

جے ایس او کے مرکزی صدر برادر حسنین حیدر23 تا 31 دسمبر 2011 بہاول پور، ملتان، ڈی جی خآن، ڈی آئی خآن، سرگودھا، گوجرانوالہ، فیصل آباد، اور دیگر ڈویژنز  کے دورہ جات کریں گے۔ علمائے کرام، اراکینِ نظارت، اور سینئر برادران سے ملاقات اور دویژنز کی مجلس  عمومی میں شرکت کریں گے

17_19 فروری 2012  کو قائد ملت جعفریہ پاکسات علامہ سید ساجد علی نقوی کی سربراہی میں مرکزی اور صوبائی عہدیداران کا جنرل کونسل اجلاس بلانے کا فیصلہ : اجلاس میں سیاسی صورت حال پر صوبوں سے تجاویز طلب کی جائیں گی جنرل کونسل اجلاس میں سیاسی اور قومی موقف اپنانے کی منظوری دی جائے گی۔

جعفریہ یوتھ پاکستان یونٹ گھلواں کے زیر اہتمام احتجاجی اجتماع  منعقد ہوا ہےجس میں مرد، عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے اور اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جعفریہ یوتھ یونٹ گھلواں کے سابق صدر صفدر علی گھلو نے سردار کاظم علی حیدری کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت پنجاب ہمارے صبر کا امتحان نہ لے۔ صفدر گھلو نے مزید کہا ہے کہ کاظم علی حیدری کسی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک ملت کا نام ہے اگر انہیں رہا نہ کیا گیا تو پھر ملت تشیع میں مظاہروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا جسے کوئی نہیں روک سکے گا۔     
 طلابِ علی پور مقیم حوزہ علمیہ قم کا مجتمع آموزش عالی امام خمینی میں ایک اجلاس منعقد ہوا ہے تلاوتِ کلام پاک کے بعد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام مولانا فیض علی ملک نے حکومت پنجاب پر سخت تنقید کی  ہے کہ اس نےسردار کاظم علی حیدری کو ایک جھوٹے اور بے بنیاد مقدمہ میں پابند سلاسل کیا ہے۔اور اس کی جتنا مذمت کی جائے کم ہے اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاظم علی حیدری کو فی الفور رہا کیا جائے۔ اور حکومت اپنی غلط پالیسیوں کو ترک کر ے اور صحیح تحقیقات کی روشنی میں اصل حقائق کو سامنے لائے
شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید عبدالجلیل نقوی، مولانا آغا عظمت علی، چوہدری فدا حسین گھلوی، سید ثناء الحق ترمذی، ایم ایچ بخاری، سید اظہار نقوی، مہر قیصر عباس دادوآنہ، فضل عباس جنجوعہ، علامہ عارف حسین واحدی، اے ایچ بخاری، غضنفر نقوی، مولانا منور حسین نقوی، مولانا سید نصیر حسین ہمدانی، سید گلزار عباس نقوی، تنویر الکاظم حسنی، بشارت عباس قریشی، مولانا سبطین حیدر سبزواری، مولانا حافظ کاظم رضا نقوی، حاجی سید محمد رضا شاہ، سید مہدی حسین نقوی، سید ندیم حیدر نقوی اور دیگر عہدیداروں نے سردار کاظم علی خان حیدری کو قتل کے ایک بے بنیاد اور ناجائز مقدمہ میں ملوث کرنے اور قانونی چارہ جوئی کے باوجود بلاجواز اور بے گناہ گرفتار کرنے کے حکومتی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے حکمرانوں کے ظالمانہ اور جانبدارانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاظم علی حیدری ڈویژنل امن کمیٹی کا رکن ہے۔
گذشتہ بیس سال سے زائد عرصہ اس بات کا شاہد ہے کہ اس نے امن کے قیام اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور شاندار خدمات انجام دی ہیں، لیکن انتظامیہ اور حکومت نے اسے امن پسندی اور اتحاد دوستی کا یہ صلہ دیا ہے کہ واضح طور پر بے بنیاد اور ناجائز مقدمے میں گرفتار کر کے خود امن و امان کو تباہ کرنے کی بنیاد ڈال دی ہے۔ حکمرانوں، خفیہ اداروں اور انتظامیہ کے ایسے ہی اقدامات ملک میں دہشتگردی کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ لشکر جھنگوی جیسے واشگاف دہشتگرد گروہ کو جب یقین ہو جائے گا کہ ہمارے دہشتگرد سینکڑوں پاکستانیوں کو تہہ تیغ کرنے کے باوجود بھی نہیں پکڑے جائیں گے اور ہمارا راستہ روکنے والے ہر قانون پسند اور محب وطن شہری کو یا قتل کر دیا جائے گا یا پھر جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے گا۔ تو اس یقین کے بعد دہشتگردوں کے حوصلے بلند ہونے اور دہشتگردی میں اضافہ ہونے کے واضح راستے ملیں گے۔
شیعہ علماء کونسل پنجاب کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ کاظم علی حیدری اور دیگر ساتھیوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کر کے اصل دہشتگردوں یعنی لشکر جھنگوی کے لوگوں کو گرفتار کر کے عبرت ناک انجام سے دوچار کیا جائے۔ اگر صورتحال ایسے ہی رہی اور رہائی میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے تو شیعہ علماء کونسل اپنے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ جس کے تحت پورے پنجاب میں بالخصوص اور ملک بھر میں بالعموم عوامی احتجاج کیے جائیں گے۔
گھلواں وبلاگ کی رپورٹ کے مطابق مورخہ 18  ستمبر 2011  ء کو دہشت گرد گروہ کے سرغنہ ملک اسحاق کا دورہ علی پور گھلواں( ضلع مظفر گڑھ) تھا۔ استقبالی ریلی میں موجود سپاہ صحابہ کے افراد نے ہیڈ پنجند روڈپر کھڑے ہوئے شیعوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں ان کے اپنے افراد زخمی ہو گئے تھے اور ایک شخص ہلاک بھی ہوا تھا۔ اس ہلاک ہونے والے کی ایف آیی آر شیعوں کے۱۱۸ افراد کےخلاف درج کی گئی تھی جن میں سے ۱۸ افراد نے عبوری ضمانت کرا لی تھی۔ پھر ان افراد کو پیشی ملتی رہی بالآخر ۱۲ دسمبر ۲۰۱۱ کو عدالت نے ۱۳ افراد کو با عزت بری کر دیا اور ۱۴ دسمبر کو باقی ۵ افراد کو پیشی دے دی وہ پانچ افراد آج مورخہ ۱۴ دسمبر ۲۰۱۱ کو ڈیرہ غازی خان کی خصوصی عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے پکی ضمانت کی درخواست دی تو جج نے صرف ایک فرد یعنی تقی حیدر گھلو کی ضمانت قبول کر لی باقی افراد کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ گرفتار ہونے والوں میں علی پور گھلواں کے نوجوانوں کے دل کی دھڑکن، اتحاد بین المسلمین کے داعی ، مذہبی و سماجی کارکن اور شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صوبائی سیکرٹری سردار کاظم علی خان حیدری، سید دیدار علی زیدی مسئول شیعہ علماء کونسل تحصیل علی پور ، ساجد علی بھٹی جعفریہ یوتھ جتوئی کے نام شامل ہیں۔    
        گھلواں وبلاگ کی رپورٹ کے مطابق دو محرم الحرام کی شب جعفریہ یوتھ یونٹ گھلواں  کے زیر اہتمام مسجد امام حسین علیہ السلام میں محرم کے حوالے سے ایک اجلاس میں شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صوبائی سیکرٹری سردار کاظم علی خان حیدری  نے کہاہے کہ اس سال عزاداری سیدالشہداء جس ماحول میں ہم منا رہے ہیں وہ ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے اسلام دشمن اور ملک دشمن قوتیں فرقہ واریت کو آڑ بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔  لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم ملکر اتحاد و رواداری اور بھائی چارے کا ماحول پیدا کر کے  مظلومِ کربلا کے پیغام کو عام کریں اور حضرت امام حسین علیہ السلام  نے صبر و رضا اور قیام کا  جودرس حیات کربلا  میں دیا ہے  اسے اپنا ہدف بنا کر ملت اسلامیہ کو درسِ اتحاد دیں اور اپنی مجالس وجلوسوں  کو زیادہ سے زیادہ  رونق بخشیں تا کہ عزاداری سیدالشہداء کا اصلی ہدف اور نظریہ عام ہوں اور دشمنوں کے عزائم ناکام ہوں۔

 

سه شنبه 1 آذر 1390 05:17 ب.ظ
ارسال شده در: شیعہ علماء کونسل پاکستان ،

شیعہ علماء کونسل پنجاب کا اہم ہنگامی اجلاس۔ پنجاب بھر سے اضلاع کی شرکت۔ اہم فیصلے
ملتان۔ ۲۲ نومبر ۲۰۱۱ء ( ) شیعہ علماء کونسل پنجاب کا ایک اہم صوبائی اجلاس گذشتہ روز جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ شیعہ میانی ملتان میں منعقد ہوا جس کی صدارت شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید عبدالجلیل نقوی کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی نائب صدر مولانا آغا عظمت علی نے کی جبکہ مرکزی نائب صدر اور عالم اسلام کے معروف مبلغ استاذالعلماء علامہ سید محمد تقی نقوی مہمان خصوصی تھے ۔ اجلاس میں اراکین صوبائی کابینہ چوہدری فدا حسین گھلوی‘ سید ایم ایچ بخاری‘ سید اظہار نقوی‘ سردار کاظم علی خان حیدری‘ مہر قیصر عباس دادوآنہ‘ فضل عباس جنجوعہ اور دیگر نے شرکت کی۔ پنجاب میں شیعہ علماء کونسل کے ڈویژنل صدور و سیکریٹریز اور ضلعی صدور و جنرل سیکریٹریز کے علاوہ جعفریہ یوتھ اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نمائندگان بھی شریک تھے۔جبکہ علامہ سید علی اصغر نقوی وائس پرنسپل جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ ملتان نے خصوصی طور پر تربیتی اور اخلاقی تعمیر کے موضوع پر پر مغز درس دیا۔
اہم صوبائی اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں ملت جعفریہ کا کردار‘ سیاسی جماعتوں کے روابط اور مذاکرات کی کیفیت‘ ایم ایم اے کی بحالی کے امکانات‘ موجودہ حالات میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کا کردار اور آمدہ انتخابات میں ملت تشیع کے کلیدی کردار کو مزید مضبوط اور طاقتور بنانے کے حوالے سے موضوعات پر طویل بحث کی گئی اور فیصلہ جات کئے گئے۔ جبکہ آمدہ انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے حوالے سے بھی متعدد معاملات طے کئے گئے۔
شیعہ علماء کونسل پنجاب نے ملک میں مکتب تشیع کے پیروکاروں کے خلاف جاری دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے بھیانک اور ملکی امن وامان برباد کرنے کے سلسلے پر سخت تشویش کرتے ہوئے سپریم کورٹ اور مقتدر قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں اور ملک کے عمومی اور نچلی سطح کے مسائل پر توانائیاں صرف کرنے کی بجائے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے خونی سیلاب کو روکنے کے لیے اقدامات کا اعلان کریں۔ کیونکہ یہ دونوں مسائل اعلی عدلیہ اور مقتدر قوتوں کے سارے کارناموں اور زحمات و خدمات کو داغدار کررہے ہیں۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذکورہ دونوں مسائل سے متاثرہ لوگ بھی اب مایوسی کی انتہاء کو پہنچ چکے ہیں جس کا ادراک کرنا اور اندازہ لگانا اعلی عدلیہ اور مقتدر قوتوں کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ ملک کو خانہ جنگی اور فتنہ و فساد سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اجلاس میں محرم الحرام میں مجالس و جلوسہائے عزاء کے انعقاد میں حائل سرکاری اور فرقہ وارانہ رکاوٹوں کا بھی بغور جائزہ لیا گیا اور مختلف ضلعی صدور کی طرف سے پیش کئے گئے تحفظات اور مطالبات کی روشنی میں طے کیا گیا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے بھرپور رابطہ کرکے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اور عزاداری کے انعقاد کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ البتہ امن و امان کے قیام اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کے لیے انتظامیہ اور دینی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور معاونت کی جائے گی اس حوالے سے امن کمیٹیوں اور اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں کے کردار کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جائے گا۔
شیعہ علماء کونسل کے اجلاس میں سانحہ علی پور‘ سانحہ دریا خان اور ننکانہ صاحب میں فرقہ وارانہ صورت حال کی کشیدگی کے حوالے سے بھی خصوصی غور کیاگیا اور آئینی و قانونی راستے کے ذریعے جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا بھی فیصلہ کیاگیا۔ملک میں موجوہ دور میں جان لیوا مہنگائی ‘ کرپشن کے نت نئے اسکینڈلز رونما ہونے‘ امریکہ میں پاکستانی سفیر کے حالیہ اقدام سے پیدا ہونے والی صورت حال‘ امریکہ و اسرائیل کے طرف سے اسلامی جمہوری ایران پر حملہ کرنے کی کیدڑ بھبھکیوں ‘ عرب ممالک میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں‘ بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کے حکومتی فیصلے کے اثرات‘ کالعدم اور دہشت گرد گروہوں کی شرپسندانہ سرگرمیوں‘ فرقہ پرستوں کے از سرنو منظم ہونے کے سلسلے اور حکومتوں کی دانستہ خاموشی کے موضوعات پر خصوصی مشاورت کی گئی اور حکمرانوں سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ پاکستان کے داخلی اور خارجی تشخص کو باوقار اور با حمیت بناتے ہوئے اقدامات کریں۔

سید اظہار نقوی
سیکریٹری اطلاعات
شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجاب

 


 
 
 
 
 
 
 
 
 

۔قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی نے اسلامی بیداری کی ورلڈاسمبلی کی سنٹرل کونسل کے دوسرے کمیشن کے اجلاس میں شرکت کی اورصدارت کے فرائض انجام دئے

، پلاننگ منصوبہ بندی اورپروگرامزکے سلسلے میں اپناموقف بیان کیا۔
رپورٹ کے مطابق قائدملت جعفریہ نے اسلامی بیداری کی ورلڈاسمبلی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹرعلی اکبرولایتی کی طرف سے سنٹرل کونسل کے ارکان کے اعزازمیں دئے گئے ظہرانہ میں شرکت کی اورمختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں۔
جعفریہ پریس کے ذرائع کے مطابق قائدملت جعفریہ پاکستان نے اسلامی بیداری کی ورلڈاسمبلی کی سنٹرل کونسل کے آخری اجلاس میں شرکت کی اس اجلاس میں تنظیمی ڈھانچے کے متعلق دونوں کمیشنوں کی سفارشات کی منظوری دی گئی اوراختتامی اعلامیہ جاری کیاگیاجس میں مستقبل کے پروگرام کی تفصیلات دی گئیں۔

دوشنبه 30 آبان 1390 02:32 ب.ظ

 

 

 

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ''عیدمباہلہ'' کی مناسبت سے اسلامیان عالم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن خاصان خدا کی طرف سے دین خدا کی صداقت

و حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے میدان عمل میں آنے کا دن ہے جس کی وجہ سے دین حق سے انکار کرنے والوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ جس دین کامل کو خدا کے نزدیک پسندیدہ ترین دین قرار دیا گیا ہو اور جس کی ترویج و اشاعت کے لئے رحمت اللعالمین جیسی ہستی نے تکالیف اور مصائب برداشت کئے ہوں اور پھر جس دین کی سچائی کو دنیائے عالم پر واضح کرنے کے لئے رسول خدا اپنے اہل بیت اطہار  کے ہمراہ  مباہلے کے لئے نکل پڑے ہوں یہ امر عالم انسانیت کو اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ جلد یا بدیر بالاخر دنیائے عالم کو دین حق کی جانب ہی رخ کرنا پڑے گا کیونکہ دین اسلام ہی بالاخر انسان کی دنیوی و اخروی فلاح او ر نجات کا ضامن ہے۔انہوں نے کہا روز مباہلہ پیغمبر گرامی  نے اپنے حقیقی جانشینوں کا تعارف کراکے یہ بات رہتی دنیا تک کے لئے واضح کردی کہ اگر سسکتی اور بھٹکتی ہوئی انسانیت کے لئے اگر کوئی نمونہ عمل ہے تو وہ خانواوہ رسالت کے علاوہ کوئی اور نہیں۔کیونکہ خانوادہ عصمت و طہارت نے اپنے عمل و کردار کے ذریعے دنیائے عالم کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کیا اورمعاشرے میں عدل و انصاف کے قیام اور بدی کی قوتوں کے خلاف اعلان جہاد بلند کرکے بلاتفریق مذہب و مسلک' رنگ و نسل ' انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔    علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ عید مباہلہ کی بابرکت ساعتوں میں ہمیں اس عہد کی تجدید کرنا ہوگی کہ دین حق کی سربلندی اور ترویج  کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے اور راہ حق پر عمل پیرا ہوکر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کوبہتر بنانے کی سعی و کوشش کریں گے۔
سیکریٹری اطلاعات

1 (55)تاریخ کے صفحات حضرت امام حسین علیہ السلام کا موقف اور نقطہ نگاہ آج بھی اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ رقم ہے۔ چنانچہ جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے دباؤ ڈالا گیا تو آپ نے فرمایا کہ "اذا ابتلیت الامۃ بمثل یزید فعلی الاسلام السلام" مسلمانوں کا حکمران یزید جیسا شخص ہو گا تو ایسے اسلام پر سلام، بیعت سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔ اس طرح امام عالی مقام نے اپنا موقف دو ٹوک انداز میں بیان کر دیا اور حکومت، اس کے کردار اور پالیسیوں کو ٹھکر کر انہیں غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔
 
اپنے قیام کے اہداف و مقاصد واضح فرمائے چنانچہ اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کو ایک وصیت نامے میں امام عالی مقام نے اس طرح ارشاد فرمایا
’’میرے اس قیام، میری جدوجہد کا اصل مقصد اور میری اس تحریک اور اقدام کا اصل ہدف صرف امت کی اصلاح ہے، میرا عزم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔‘‘ اس فصیح و بلیغ بیان میں آپ نے اپنے اہداف و مقاصد اور اسلام کے تحفظ اور دین کی بقاء کے لئے اپنے خدا اور اپنے نانا سید الرسل ص کی طرف سے ودیعت کی گئی ذمہ داریوں کا مکمل احاطہ فرما دیا ہے۔ اصلاح کا کلمہ بذات خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فساد موجود ہے، انتشار و افتراق برپا ہے اور بگاڑ ہویدا ہے۔ لہذا ان برائیوں کے خاتمے کے لئے اصلاح کی ضرورت درپیش ہے۔ آپ نے اپنے خطوط و خطبات میں قیام کی وجوہات واضح کرنے کے لئے کئی مرتبہ اس دور کی صورتحال، کیفیت، امت کی حالت زار اور حالات کی ابتری کی نقشہ کشی اور منظر کشی فرمائی۔
 
چنانچہ امام جب مکہ تشریف لائے تو بصرہ کے قبائل کے سرداروں کو ایک خط لکھا جس میں امام ع نے تحریر فرمایا کہ میں ابھی اپنے نمائندے کو اس خط کے ساتھ آپ کی طرف بھیج رہا ہوں، میں آپ کو کتاب خدا اور سنت پیغمبر اکرم ص کی طرف دعوت دیتا ہوں، چونکہ حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ سنت پیغمبر اکرم ص ختم ہو چکی ہے اور بدعتیں زندہ ہو گئی ہیں، اگر آپ میری بات کو سنیں گے تو میں آپ کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کروں گا۔ سفر عراق کے دوران مقام بیضہ پر لشکر حر کو خطبہ میں ارشاد فرمایا: ۔
’’اے لوگو! یہ (حکمران) اطاعت خدا کو ترک کر چکے ہیں اور شیطان کی پیروی کو اپنا نصب العین بنا چکے ہیں۔ یہ ظلم و فساد کو اسلامی معاشرے میں رواج دے رہے ہیں۔ خدا کے قوانین کو معطل کر رہے ہیں اور ’’مال فے‘‘ کو انہوں نے اپنے لئے مختص کر لیا ہے۔ خدا کے حلال و حرام اور اوامر و نواہی کو بدل چکے ہیں۔ میں اس معاشرے کی ہدایت و رہبری کے لئے اور ان سے سب فتنوں، فسادکاریوں اور مفسدوں کے خلاف کہ جنہوں نے میرے نانا کے دین کو تبدیل کر دیا ہے، قیام کرنے میں دوسروں سے زیادہ اہل ہوں۔‘‘
 
اس خطبے میں کی گئی منظر کشی سے واضح ہوتا ہے کہ یزیدی دور میں حکمران، احکام شریعت الہی اور سنت رسول ص میں دیئے گئے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو بھلا کر گمراہی اور گناہ کی زندگی اختیار کر چکے تھے۔ عدل اجتماعی سے گریز کرتے ہوئے مستقل طور پر بے عدلی اور ناانصافی کو اسلامی معاشرے کا حصہ بنایا جا رہا تھا۔ خدا نے انسان اور معاشرے کی بھلائی کے لئے شریعت کی شکل میں جو قوانین اور پابندیاں عائد کیں ان سے عملاً برات کر کے اپنے خود ساختہ قوانین رائج کئے جا رہے تھے۔ قومی خزانے کو لوٹا جا رہا تھا۔ کرپشن اور حرام خوری حکمرانوں کی عادت بن چکی تھی، جس سے معاشی ناہمواری، غربت، افلاس اور جہالت کو فروغ مل رہا تھا۔ حکمران خود بھی اور اپنی رعایا میں بھی حلال و حرام کی تمیز نہیں کر رہے تھے۔ بلکہ حرام امور کو حلال تصور کر کے انجام دے رہے تھے۔ خدا کے احکامات کی تابعداری کرنے کی بجائے نافرمانی کر رہے تھے۔ سفر عراق میں ذی حسم کے مقام پر خطبہ میں ارشاد فرمایا:۔
 
’’وہ جو ہونے والا ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں، زمانے کے حالات بالکل تبدیل ہو چکے ہیں۔ برائیاں ظاہر ہو چکی ہیں، نیکیاں اور فضیلتیں بہت تھوڑی رہ گئی ہیں، جیسے کسی برتن کی تہہ میں چند قطرے۔ لوگ ذلت و پستی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ زندگی کا منظر پتھریلی چراگاہ کی طرح ہے، جس میں گھاس کم ہے۔ زندگی دشواریوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ’’کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے دوری اختیار نہیں کی جا رہی۔ ان حالات میں ایک ایماندار شخص کو چاہیے کہ اپنے پروردگار کے دیدار کا طالب و مشتاق رہے اور اس قدر ذلت بار حالات میں حسین ابن علی موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو بوجھ سمجھتے ہیں۔‘‘ مزید ارشاد فرمایا : ۔’’لوگ دنیا کے بندے ہیں، دین ان کی زبانوں پر صرف لقلقہ لسانی تک ہے۔ جب تک ان کی زندگی پررونق رہتی ہے اس وقت تک دین کے ساتھ رہتے ہیں اور جب امتحان و آزمائش کا وقت آتا ہے تو دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں۔‘‘

حالات کی تصویر کشی کرتے ہوئے مختلف مقامات پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اس وقت ہم ایسے حالات سے گزر رہے ہیں کہ سنت رسول ص ختم ہو چکی ہے اور اس کی جگہ بدعت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ تم کتنے بدبخت اور سرکش افراد ہو کہ جنہوں نے قرآن کو پس پشت کر لیا اور تم لوگوں نے شیطان کو دماغ میں بسا لیا ہے۔ تم لوگ بڑے جنایت کار، کتاب خدا میں تحریف کرنے والے اور سنت خدا کو فراموش کرنے اور اسے ختم کرنے والے ہو، جو پیغمبر اکرم ص کے فرزندوں کو مار ڈالتے ہو اور تم اوصیاء کو اذیت دینے والے اور تم ایسے پیشواؤں کے پیروکار ہو، جو قرآن مجید کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ اسلام میں تحریف ہو جانے کا خطرہ ہی نہیں بلکہ اسلام کے نابود ہونے کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ پیغمبر اکرم ص کے قانو ن کو ختم کیا جا رہا ہے اور اس کی جگہ بدعتیں زندہ کی جا رہی ہیں۔

ایسی صورت حال میں امت کی رہبری و رہنمائی فرمانا، امت کو ہدایت کا راستہ دکھانا، امت کو فساد اور شر سے بچانا، امت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے سے آگاہ کرنا اور امت کو صحیح اور سچے نظام حکومت اور نظام حیات کی طرف متوجہ کرنا صرف اور صرف آپ ہی کی ذمہ داری تھی۔ جبھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ ’’اسلامی معاشرہ کی رہبری اور اس ظلم و فساد اور ان ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے میں (حسین ) دوسروں کی نسبت زیادہ سزا وار ہوں۔۔۔ یہ ایسی حکومت ہے، جس نے قرآنی احکام، سنت اور قوانین پیغمبر اکرم ص میں تغیر و تحریف کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔ لہذا اس کے خلاف جدوجہد کرنا میرا دینی فریضہ ہے۔۔۔
میری ذمہ داری ہے کہ میں تمام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ دوں اور قرآن اور اسلام کے فراموش شدہ حیات آفرین احکام کو دوبارہ اس معاشرے میں رواج دوں۔ ظلم و ستم اور اسلامی قوانین میں تبدیلی کو روکوں۔۔۔ان حالات میں ظلم و فساد کے خلاف جدوجہد ضروری ہے یعنی اگر اس جدوجہد میں امت کے پاک ترین افراد کا خون بھی بہہ جائے تو فقط یہ کہ دشمن اسلام سے نفع نہیں اٹھا سکے گا بلکہ اس کے بہترین نتائج ظاہر ہوں گے اور اسلام پھلے پھولے گا۔۔۔ اب مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی سے ملاقات کی رغبت کرے اور میں تو موت کو اپنے لئے سعادت اور ظالموں کے ساتھ جینے کو بوجھ سمجھتا ہوں‘‘۔
 
امام عالی مقام کے ان ارشادات نے واضح کر دیا کہ آپ کی جدوجہد، آپ کا سفر، آپ کا قیام، آپ کی شہادت اور پھر آپ کے خانوادے کے پابہ زنجیر طویل سفر کا مقصد ذات، مفادات، شہرت، دولت، فقط حکومت یا نمود و نمائش نہیں تھا۔ بلکہ صرف اور صرف اصلاح امت اور فلاح امت تھا۔ اس جدوجہد نے اس اصول کی بنیاد ڈال دی ہے کہ جب بھی،جس دور میں بھی، جس خطے میں بھی اور جن حالات میں بھی، اس قسم کی صورت حال درپیش ہو تو عظیم مقاصد اور اجتماعی مفادات کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
 
تاریخ شاہد ہے کہ 10 محرم 61 ھ کے بعد جب بھی حریت کی تاریخ رقم ہوئی، جب بھی ظلم کے خلاف قیام کا مرحلہ آیا، جب بھی فساد کے خاتمے کی جدوجہد ہوئی اور جب بھی جبر سے مسلط رہنے والی حکومتوں کو مزاحمت دینے کی بات نکلی تو سب حریت پسندوں اور تمام تحریکوں نے حسین اور کربلا سے ضرور استفادہ کیا۔ تعلیمات اور سیرت امام حسین ع کی روشنی میں اصلاح امت کا سلسلہ ماضی میں بھی جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ برائیوں اور مفاسد کو دور کرنے اور دنیا کو ایک ہمہ گیر نظام فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اصلاح امت کا بنیادی فریضہ انجام دیا جائے۔ یہ فریضہ انجام دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ امام حسین ع کے فرامین، کردار، سیرت، انداز عمل اور جدوجہد سے استفادہ کریں۔ اصلاح امت کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اپنے مسلکی، فروعی، ذاتی اور جماعتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد امت، وحدت امت اور اصلاح امت کا مشن جاری رکھیں۔

بیداری اسلامی

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کو اس کانفرنس کی خصوصی دعوت جناب ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کے خصوصی ایلچی نے گذشتہ ماہ دی۔ قائد محترم نے 16ستمبر2011کی شام اس کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے قم المقدسہ سے تہران پہنچے اُن کے ہمراہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ تھے جو کانفرنس میں قائد محترم کے ہمراہ رہے۔
17ستمبر2011ئ
8:30بجے صبح لابی میں سابق سینٹر مولانا سمیع الحق سے ملاقات ہوئی اور ناشتہ ایک ساتھ کیا گیا۔  ناشتہ کے بعد قاضی حسین احمد(سابق امیر جماعت اسلامی) سے ملاقات ہوئی اور ان بزرگان کو ایک ساتھ VVIP انداز میں کانفرنس ہال میں لے جایا گیا۔ اور وہاں پر VVIPنشستوں پر بٹھایا گیا۔
کانفرنس کا افتتاح رہبر معظم آیت ا۔۔۔ہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے کرنا تھا وہ ھال میں تشریف لائے تو دیگر مہمانان خصوصی کی طرح قائد محترم سے گرم جوشی سے ملے، مصافحہ ہوا خصوصی طور پر حال احوال پوچھا۔
کانفرنس کے افتتاح کے بعد نشستوں کا آغاز ہوا۔
پہلی نشست کی صدارت آیت ا۔۔۔ ہ آصف محسنی نے کی جبکہ اُن کیہ مراہ صدارتی پینل میں سید عمارالحکیم (عراق) مولانا سمیع الحق (پاکستان) سید کمال حلبادی السید موسی ابو مذوق ، السید یحیٰ الدیلمی، السید محمد رعد، السید مصطفیٰ کا مالاک تھے جبکہ مقررین میں سوڈان کے سابق وزیراعظم صادق المھدی، حزب ا۔۔۔ ہ کے نائب رئیس شیخ نعیم قاسم، افغانستان کے سابق صدر برہان الدین ربانی، فلسطین کے ڈاکٹر رمضان عبدا۔۔۔ ہ جامعة الزہرا  مصر کے ڈاکٹر شیخ جمال قطب ،عراق کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر ابراہیم جعفری نے خطاب کیا۔
اس نشست کے بعد شرکاء کو چار مختلف کمیشنز میں تقسیم کر دیا گیا۔ قائد محترم نے کمیشن نمبر2میں شرکت کی جس کے چیئر مین سابق وزیراعظم سوڈان صادق المھدی تھے۔اس کمیشن میں دوران بحث وتمحیص صادق المھدی نے کہا اسلامی بیداری کیلئے تین اطراف سے کام ہو رہا ہے، ترک، عرب اور ایران ان تینوں کو یک جاہو کر، ڈاکٹر جمال قطب نے کہا کہ یہ بیداری فطری انقلاب ہے جس پر سابق عراق وزیراعظم ڈاکٹر ابرہیم جعفری نے کہا کہ فطری انقلاب ہی تو اسلامی انقلاب ہے کیونکہ اسلام دین وفطرت ہے اور انسانی فطرت عین اسلام ہے اور آیت کریمہ فطرہ۔۔۔پڑھی اس کمیشن کے اختتام کے بعد ہوٹل استقلال میں ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی کی طرف سے عشائیہ تھا۔جس میں قائد محترم نے شرکت کی ڈاکٹر صالحی نے گرم جوشی سے قائد محترم کا استقبال کیا اور حال احوال ہوا۔
قائد محترم کو VVIP نشستوں پر بٹھایا گیا۔قائد محترم کے بائیں طرف فلسطین کے کرنل ابو موسیٰ تھے جبکہ دائیں جانب سید عمار الحکیم، دو تین دیگر لیڈر اور وزیر خارجہ ڈاکٹر صالحی کی نشست تھی۔
18ستمبر2011ء صبح 8:30تا11بجے دن
پہلی نشست کی صدارت مصطفیٰ عثمان اسماعیل نے کی جبکہ صدارتی پینل میں ڈاکٹر پروفیسر منیر شفیق، عبدالطیف الحامیم ابو جارح سلطانی، ڈپٹی سپیکر عراق میڈم مھی الدوری جبکہ خطاب کرنے والوں میں پہلے مقررایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی تھے۔ عراق سے مجلس اعلیٰ کے سربراہ السید عمار الحکیم، فلسطین سے موسیٰ ابو مرزوق(حماس کے سیاسی ونگ کے ممبر)لیبیاء سے قوقھا، فلسطین سے معروف راہنما ابو جہاد احمد جبریل ،ملائیشیاء سے عبدا۔۔۔ہ آئونگ اور ترکی سے ڈاکٹر مصطفیٰ کا مالاک نے خطاب کیا اور پاکستان سے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے فارسی زبان میں انتہائی مختصر ، جامع اور زبردست خطاب کیا۔ جس کا شرکاء نے پرجوش تالیوں سے خیر مقدم کیا۔
قائد محترم نے اسلامی بیداری کے حوالے سے تین مثالیں پیش کیں۔
1۔    انقلاب اسلامی ایران کو بھی عوامی، اسلامی بیداری قرار دیا اور کہا کہ اُس کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس انقلاب کو امام خمینی اس کے بعد رہبر معظم جیسی مدبر قیادت نصیب ہوئی۔
2۔    اس طرح قیام پاکستان کے وقت برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کی تحریک پاکستان بھی اسلامی بیداری کی عظیم مثال تھی عوام کا جو نعرہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا۔لاالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3۔    جب رشدی معلون سے منصوبہ بندی کے تحت توہین رسالتۖ کرائی گئی اور امام خمینی نے اُس کے خلاف قتل کا فتویٰ دیا تو پاکستان کے عوام گھروں سے نکل پڑے اور تاریخی احتجاج کیا حتیٰ کہ اس سلسلے میں شہادتیں پیش کیں یہ بھی اسلامی بیداری کی اعلیٰ مثال تھی۔
4۔    اسلامی بیداری کے حوالے سے تہران میں ایک سیکرٹریٹ ہونا چاہیے جو تمام حریت آزادی پسند مسلمانوں کو اسلام کی اعلیٰ اقدار کے حوالے سے مجتمع رکھنے اور دوسرے ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کیے بغیر ایک منظم انداز میں اسلامی بیداری کے حوالے سے پروگرام کو آگے بڑھائے۔
نوٹ:
(i)    قائد محترم کے خطاب کے بعد سینٹ آف پاکستان میں اپوزیشن لیڈر سینٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے قائد محترم کے خطاب کو سراہا۔
(ii)    سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ(ضیاء الحق) کے سربراہ اعجاز الحق نے قائد محترم سے ملاقات کی اور خطاب کی بے حد تعریف کرتے ہوئے کہا آپ نے پاکستان کا نام لیا اور آپ کے خطاب سے پاکستانیت جھلک رہی تھی۔
(iii)    سابق صدر برہان الدین ربانی نے بھی قائد محترم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جو قائد محترم کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔

سابق صدر افغانستان برھان الدین ربانی علامہ سید ساجد علی نقوی کے ساتھ


(iv)     سابق سینیٹرمولانا سمیع الحق، سابق وفاقی وزیر اور ممبر قومی اسمبلی نورالحق قادری نے بھی خطاب کیا۔
(v)    عرب دنیا سے تعلق رکھنے والے راہنمائوں نے تو خطاب کوبہت ہی سراہا اور قائد محترم کو ملکر تحسین پیش کرتے رہے۔
دوسری نشست 11:30 بجے تا 1بجے دن
دوسری نشست کے صاحب صدر فلسطین کے معروف راہنما اور حرکت جہاد اسلامی کے سیکرٹری جنرل جناب ڈاکٹر رمضان عبدا۔۔۔ہ شیخ تھے جبکہ صدارتی پنیل میں پاکستان سے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی، اپوزیشن لیڈر سینٹ آف پاکستان سینیٹر عبدالغفور حیدری(سیکرٹری جنرل جمعیت علماء اسلام ف) حجة السلام الشیخ ابراہیم زاکی، زاکی(نائجیریا) فلسطین کے ابو جھاد احمد جبرئل، فواد ابراہیم محمود العیاوی تھے۔ یہ تمام حضرت سٹیج پر تشریف فرما تھے۔ اس نشست سے یمن کے یحیٰ الدیلمی، عراق کے وفاقی وزیر ھادی العامری، آذربائیجان کے منڈم سودابہ ابراہیم لی۔ افغانستان کے ملانیک محمد، کویت سے الشیخ حسین معتوق، پاکستان سے قاضی حسین احمد(سابق امیر جماعت اسلامی)نے فارسی زبان میں خطاب کیا۔ فلسطین سے ڈاکٹر پروفیسر منیر شفیق اور سوڈان سے مصطفیٰ عثمان تھے
نماز و طعام 1بجے تا3بجے
تیسری نشست3:30بجے سہ پہر تا6بجے شام
اس نشست کی صدارت مالیزیا کے عبدالھادی آونک نے کی جبکجہ صدارتی پنیل میں احمد جبرئل، حبیب مکنی، علی الدیلیمی اور عبدالناصر جبری تھے۔
اس نشست  کے معززین میں بحرین کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر الشیخ حسن سلطان، مصری مفکر مھمی الھویدی، عراق کی پارلیمنٹ کی ڈپٹی سپیکر میڈم محی الدوری، الجزائر کے الشیخ ابوحرہ سلطانی، پاکستان سے سابق سینٹر مولانا سمیع الحق نے عربی
میں تقریرکی۔ییمن کے علیٰ ناصر محمد اور ایران کے رہبر معظم کے انٹرنیشنل روابطہ کے مشیر حجة الاسلام آقای محسن قمی نے خطاب کیا۔یمن کے علی ناصر محمداور رہبر معظم کے انٹرنیشنل روابط کے مشیر حجة الاسلام آقای محسن قمی نے خطاب کیا۔
اختتامی نشست6بجے شام تا7بجے شام
اس نشست کے صاحب صدر عراق کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر ابراہیم جعفری تھے جبکہ صدارتی پنیل میں ایران کے سابق وزیر خارجہ او انٹرنیشل بیداری اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری ڈاکٹر علی اکبر ولایتی، حزب ا۔۔۔ہ کے نائب رئیس الشیخ نعیم قاسم، پروفیسر فھمی الھویدی، قاضی حسین احمد، موسیٰ ابو مرزوق اورنجف اشرف عراق کے امام جمعہ صدر الدین قبانچی تھے۔
پانچوں کمیشن کے سربراہوں نے کمیشن کی رپورٹس پیش کیں۔ رپورٹس پیش کرنے والوں میں الشیخ نعیم قاسم، قاضی حسین احمد (انگلش میں رپورٹ پیش کی) اور دو رپورٹس کمیشنز سیکرٹریز نے پیش کیں۔
اس کے بعد صاحب صدر ڈاکٹر ابراہیم جعفری نے اپنے خطاب میں کہا کہ کامیابی اور پرثمر کانفرنس  اُمت مسلمہ کی بیداری کے حوالے سے ایک سنگین میل ہے اور اس کے تسلسل کو جاری رہنا چاہیے۔لہذا میں آپ کی خدمت میںاس حوالے سے قرار دیں پیش کرتا ہوں آپ شرکاء کی تجاویز کی روشنی میں:
1۔     انٹرنیشنل اسلامی بیداری کے حوالے سے منعقد اس کانفرنس کو ایک مستقل ادارے کی حیثیت دی جائے تاکہ یہ باقاعدہ سے اسلامی بیداری کے حوالے سے کام کر سکے۔
انٹرنیشنل اسمبلی فار اسلامک آویکنس
مجمع جہانی اسلامی بیداری
تمام شرکاء نے بھر پور انداز میں ہاتھ کھڑے کر کے اس کی تائید کی۔
2۔    کیونکہ اسلامی بیداری اور مسلمانوں کے تمام تر مسائل اورحریت و آزادی کی تحریکوں کی عملی مدد کرنے میں ایران پیش پیش اور واضح موقف رکھتا ہے لہذا اس انٹرنیشنل تنظیم کا مرکزی سیکرٹریٹ کا وجود عمل میں لایا جائے اور یہ سیکرٹریٹ تہران میں ہوتا کہ آزادی سے اسلامی کانفرنس کے پروگرام کو آگے بڑھایا جاسکے۔
تمام شرکاء نے پرجوش انداز میں ہاتھ کھڑے کر کے اس کی تائید کی۔
3۔    اس تنظیم اور سیکرٹریٹ کو چلانے کیلئے ایک تجربہ کار انٹرنیشنل معاملات سے واقفیت رکھنے والی اسلامی دنیا میں جانی پہچانی شخصیت اسلامی بیداری کے حوالے سے متحرک افراد سے مربوط ایرنی سپریم لیڈر کے معتمد خاص اور ایرانی حکومت کی حمایت یافتہ شخصیت کی ضرورت ہے ان تما م خصوصیات کی حامل ایک ہی شخصیت ہے اوروہ ہیں ایران کے سابق وزیر خارجہ اس کانفرنس کے میزبان(سیکرٹری)ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اعلیٰ جناب ڈاکٹر علی اکبر ولایتی ان کا نام میں بطور سیکرٹری جنرل کے تجویز کرتا ہوں۔
جس کی تائید کیلئے شرکاء نے والہانہ انداز میں ہاتھ کھڑے کئے اور تالیاں شروع کیں اس پر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کھڑے ہوئے ادب سے شرکاء کو سلام کیا تقریباً3/4منٹ پر جوش تالیاں لگائی جاتی رہیں اور ہال نعرہ تکبیر کی صدائوں سے گونجتا رہا۔
اس کے بعد ڈاکٹر ابراہیم جعفری نے جناب ڈاکٹر علی اکبر ولایتی صاحب کو اس کانفرنس کا اختتامی بیانیہ پڑھانے کی دوت دی۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے بیان پڑھانے سے پہلے شرکا کو بین الاقوامی اسلامی بیداری کے سیکرٹری جنرل کے طور پر انتخاب کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جیسے رہبر معظم سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں ارشاد فرمایا وہ اسلامی بیداری کانفرنس کیلئے بنیادی دستاویز اور روڈ میپ شمارہو گا اورآپ نے اپنے خطابات، کمشنز میں بحث و مباحثہ اور تحریری مقالات  میں تجویز دی ہیں اسی کے مطابق پالیسیاںبنائی جائیں گی۔
1۔    مجمع بین المللی بیداری اسلامی تشکیل دے دیا ہے۔
2۔    اس کا سیکرٹریٹ تہران میں ہوگا جو جلد قائم کر دیا جائیگا۔
3۔    اس کیلئے دنیا بھر سے ایک مشاور کونسل بنائی جائیگی جو اس کی پالیساں اور معاملات طے کریگی۔
4۔     اور ایک اس طرح اس کے جنرل اسمبلی(مجمع عمومی)ہوگا۔ جس کا اجلاس تسلسل کے ساتھ ہوگا اور فیصلہ جات کی توثیق کرائی جائیگی۔
اس کے بعد انہوں نے اختتامیہ بیانیہ پڑھا۔
7بجے ایران کے صدراحمدی نژاد اختتامی خطاب کیلئے تشریف لائے تو اُن کو ڈاکٹر ابراہیم جعفری نے خوش آمدید کہا اور کانفرنس کی جامع اور مختصر روائیداد سنائی اور ہونے والے  متفقہ فیصلوں سے آگاہ کیا۔
صدر احمدی نژاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ نے جو فیصلے کئے ہیں میں اُن کی بھر پور تائید کرتا ہوں اور آپ نے ایک انتہائی تجربہ کار قابل اور دنیا شناس آدمی ڈاکٹر ولایتی کو اس کا سیکرٹری جنرل چنا ہے۔ اُمید ہے وہ اس ادارے میں فعال اور آگے لیجانے میں کامیاب ہونگے۔ آپ نے جو ایران پر بھروسہ کیا ہم تمام مظلوم مسلمانوں کی پشست پر ہیں اور رہیں گے ہم سرحدوں کے قائل نہیں ہم اسلام نائب محمدی کے قائل ہیں ایران آپ کا ہے اور آپ ہمارے ہیں۔
اسلام کی عزت و توقیر کیلئے ہم اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرینگے۔9/11کے ایک خود ساختہ ڈرامے میں کئی لاکھوں مسلمانوں کا خون بہا یاگیا اور کتنے مسلمان ملکوں پر قبضہ کیا گیا ہمیں فروعی اختلافات بھلا کر متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔
صدر احمدی نژاد کے خطاب کے بعد نماز مغربین ادا کی گئی اور ہوٹل استقلال میں ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کی طرف سے دئیے گئے عشائیہ میں شرکت کی۔ جہاں پر قائد محترم کو میں سٹیج پر بٹھایا گیا اور ڈاکٹر ولایتی اپنی کرسی سے اُٹھ کر قائد محترم سے ملنے آئے اور حال احوال ہوا۔
کھانے کے بعد پرجوش انداز میں ڈاکٹر ولایتی سے رخصت ہوئے۔ ڈاکٹر سید عون ساجد نقوی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ نے بھی ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کو بین الاقوامی اسلامی بیداری کانفرنس کے سیکرٹری بننے پر مبارکباد دی۔
اہم نکات
1۔    اس پہلی بین الاقوامی بیداری اسلامی کانفرنس میں دنیائے اسلام کے تمام ممالک سے معروف، نامور اور قدآور شخصیات  نے شرکت کی۔
2۔      اس کانفرنس کے مندوبین کی تعداد تقریباً 7سو کے لگ بھگ تھی۔
3ْ۔    اس میں مسلکی تفریق نہیں تھی تمام مکاتب فکر کی جید اور بزرگ شخصیات موجود تھیں۔70%دیگر مسالک اور30% اہل تشیع کے مندوبین شریک تھے۔
4۔    اس کانفرنس میں قبلہ اول بیت المقدس پر ناجائز اسرائیلی قبضے ، فلسطینی عوام پر مظالم، افغانستان،عراق اور دیگر اسلامی ممالک میں امریکی افواج کی موجودگی مسلمانوں کے قتل عام اور خو دمختاری سلب کرنے کے اقدامات سر فہرست رہے۔
5۔    مشرق وسطیٰ میں عوامی بیداری کی حمایت کی جاتی رہی۔
6۔     بحرینی عوام کے حق خودارادیت کے حق میں تقاریر ہوتی رہیں۔
7۔    مسلکی اور فروعی اختلافات کو ختم کر کے اتحاد اتفاق قائم کرنے پر زور دیا جاتا رہا۔
8۔    مسلکی اور فروعی اختلافات کو ہوا دینے والوں کے امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ ہونے پر اتفاق رائے پایا گیا۔
پاکستان سے اس کانفرنس میں درج ذیل افراد شریک تھے۔
٭    قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامه سید ساجد علی نقوی
٭    سابق امیر جماعت اسلامی جناب قاضی حسین احمد(ہمراہ: قاضی لقمان احمد)
٭    سینیٹ میںلیڈر آف اپوزیشن سنیٹر مولانا عبدالغفور حیدری (ہمراہ: فضل داد خان ) سیکرٹری جنرل جے یو آئی ف)
٭     سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق صدر جے یو آئی س(ہمراہ: مولانا عرفان الحق حقانی ، سید احمد شاہ حقانی)
٭    سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق صدر مسلم لیگ ضیاء الحق
٭    علامہ سید افتخار حسین نقوی( ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان)
٭    سابق وفاقی وزیر،ممبرقومی اسمبلی نورالحق قادری ،خیبر ایجنسی فاٹا
٭    آغا مرتضیٰ پویا(سنیئر وائس چیئر مین عوامی تحریک پاکستان)
٭    سابق سینیٹر علامہ عباس کمیلی(کراچی)
٭    سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات اسلامی تحریک پاکستان
دیگر ممالک سے آئے ہوئے پاکستانی
٭    ڈاکٹر مولانا غلام حسین عدیل(برطانیہ)
٭    سید قیصر عباس بخاری(برطانیہ)
٭    میجر(ر)جاوید سید(برطانیہ)
٭    مولانا سید ظہیر الحسن نقوی (امریکہ)

سو شیعہ مسلمان کا قاتل ملک اسحاق

جعفریہ پریس کی رپورٹ: جب سے وطن عزیز پاکستان میں فتنہ و فساد' بدامنی و لاقانونیت' فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے پرچارک اور بانی گروہ کے مسلح عسکری ونگ کے سرغنہ اور سینکڑوں معصوم اور بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے مسلمہ دہشت گرد اور قاتل کو ان قتلوں کے اعتراف کے باوجود اعلی عدالتوں سے رہا کرایا گیااس وقت سے ملک کے محب وطن طبقات گہری تشویش میں مبتلا ہیں اور اسے فتنہ پرستوں کے از سرنو منظم ہونے اور نئی گروہ بندیوں کے ذریعے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے آغاز کاشاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔چنانچہ سنجیدہ طبقات کو عوام کے اس تاثر اور تشویش کی اس وقت تصدیق و تائیدکرنا پڑی جب اس کا ایک مظاہرہ 29  جولائی 2011  ء کو خیرپور سندھ میں اس گروہ کی جانب سے علی الاعلان لاقانونیت' سرعام اسلحہ کی نمائش اور غلیظ نعرہ بازی کی صورت میں سامنے آیا۔
جعفریہ پریس کی رپورٹ کے مطابق آج مورخہ 18  ستمبر 2011  ء کو دہشت گرد گروہ کے سرغنہ ملک اسحاق کا دورہ علی پور گھلواں( ضلع مظفر گڑھ) تھا ۔ اس موقع پر مقامی اہل تشیع نے قبل از وقت انتظامیہ کو صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کیا اور بتایا کہ چونکہ اس گروہ کے قافلے نے شیعہ آبادی کے درمیان سے گزرنا ہے  لہذا اگر شرپسندوں کی جانب سے غلیظ نعرہ بازی اور اسلحہ کی نمائش کے ذریعے لاقانونیت پھیلائی گئی تو صورت حال کشیدہ ہونے کا احتمال ہے۔
اگرچہ انتظامیہ نے دہشت گردوں کے سرغنہ کو اس راستے سے آنے سے روکا تاہم اس کے استقبال کے لئے جمع شرپسندوں کو کنٹرول کرنے کے لئے کوئی اقدام نہ کیا چنانچہ انہوں نے حسب روایت ائمہ اہل بیت  ' شیعہ مقدسات اور شیعہ عقائد و نظریات کے منافی انتہائی دل آزار اور توہین آمیز انداز میں نعرہ بازی کی جس کے بعد شیعہ عوام میں اشتعال اور غم و غصہ کا اظہار فطری تھا چنانچہ انہوں نے شرپسندوں کو روکنے کی کوشش کی ۔ جواب میں شرپسندوں نے آتشیں اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی چنانچہ شیعہ عوام کو اپنا دفاع کرنا پڑا۔
اس کشیدگی کے نتیجے میں شرپسندوں کا ایک ساتھی ہلاک ہوا اور دونوں طرف سے دس بارہ افراد زخمی ہوئے۔ مقامی اہل تشیع نے شرپسندوں میں سے تین مسلح افراد کو پکڑ کے پولیس کے حوالے بھی کیا  ۔ شرپسندوں کے زخمی افراد کو ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے تاہم ہمارے زخمی افراد صورت حال کشیدہ ہونے کے سبب ابھی علاج معالجے کے لئے ہسپتال منتقل نہیں کئے گئے۔
٭  اس وقت مومنین امام بارگاہ گھلواں اور گھلواں نمبر 2  میں جمع ہیں ۔ فی الحال پولیس نے شرپسندوں کو منتشر کردیا ہے اور مقامی انتظامیہ نے کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔
٭  شیعہ علما ء کونسل پنجاب کی صوبائی کابینہ اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے تنظیمی افراد باہمی رابطے میں ہیں

بسم الله الرحمن الرحیم

والّذین جاهدوا فینا لنهدینّهم سُبُلنا(القرآن)

اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے

تحریک جعفریه پاکستان

  کا

اجمالی تعارف

مقدمہ

قیام امام حسین ؑسے لے کر عصر حاضر تک ظالم جابر حکومتوں کےخلاف جتنی بھی تحریکیں وجود میں آئیں ان میں سے اکثر نے امام حسین ؑکی تحریک اور قیام سے الہام لیا ہے۔اور جہاں تک ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ تحریک جعفریہ پاکستان علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی قیادت میں ۱۲ اپریل ۱۹۷۹ کو وجود میں آئی ہے۔تحقیق اور باریک بینی سے پتا چلتا ہے کہ اس جماعت نے بھی امام عالی مقام کے قیام سے الہام لیا ہے۔تحریک جعفریہ پاکستان شیعوں کی ایک بہت بڑی جماعت ہےاس جماعت نے یوم تاسیس سے لے کر اب تک شیعیان پاکستان کے حقوق کےدفاع کے لئے بہت ساری خدمات انجام دی ہیں ۔ سیاسی ،اجتماعی،ثقافتی ،فلاحی ،علمی اور مکتبی میدانوں میں فعالیت کی ہے۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اتنی بڑی جماعت کے بارے میں کوئی تفصیلی کتاب موجود نہیں ہے۔

لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جس نے مجھےتوفیق دی کہ میں نے تحریک جعفریہ پاکستان جیسی ایک عظیم جماعت کے بارے میں تھیسز لکھا اوریہ ۲۵۰ صفحات پر مشتمل ایک تحقیق کی صورت میں سامنے آیا۔تو جب میرے جے ایس او کےدوستوں کو پتا چلا کہ میرے تھیسز کا عنوان ملت جعفریہ کی ایک محبوب جماعت ہے تو وہ میرے پاس آئے۔اور مجھ سے مطالعہ کرنے کےلئے مانگا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ اس کا مطالعہ نہیں کر سکتے تو انھوں نے کہا وہ کیسے میں نے انھیں جواب دیا ،اس لئے کہ وہ تو فارسی زبان میں ہے تو پھر ان کی خوشی ایک اداسی میں بدل گئی۔اس کے بعد تمام دوستوں نے باالعموم لیکن محمدعباس گھلو، قمر عباس گھلو اور صفدر عباس گھلو نے باالخصوص کہا کہ بھائی آپ فوراً اس کا اردو زبان میں ترجمہ کریں،تو میں نے ان سے کہا کہ یہ کام فوراً تو نہیں ہو سکتا ابھی تو اسے فارسی میں لکھ کے فارغ ہوا ہوں اس پر کافی ٹائم لگے گا۔ترجمہ تو میں فعلاً نہیں کر پایا ہوں لیکن ان دوستوں کو ایک اجمالی معلومات دینے کے لئے اپنے تھیسز (Thesis) کا انتہائی مختصر خلاصہ کیا ہے کہ جب تک ترجمہ نہیں ہوتا ان کو اتنا تو معلوم ہو جائے کہ میں نے کیا لکھا ہے۔

                                                  والسلام

                                                        امداد علی گھلو

                                                       المصطفی انٹر نیشنل یونیورسٹی (M.I.U)

                                                                         نہم ذی الحجہ ۱۴۳۱ ھ (روز عرفہ)

تحریک جعفریه پاکستان

اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر اجتماعی اور انفرادی انعامات کی فراوانی ہے اگر ہم ان انعامات الہٰی کا شمار کرنا چاہیں تو یہ ہمارے بس میں نہیں ہے یہ بھی واضح ہے کہ شکران نعمت ان نعمات میں اضافے اور اس کی بقاء کا سبب ہے اور کفران نعمت خوش بختی کو بد بختی میں بدل جانے کا سبب ہے اجتماعی انعامات میں سب سے بڑا انعام کسی ملت اور قوم کےلئے اس کا اجتماعی پلیٹ فارم اور قیادت ہے ۔ قیادت ہی وحدت کا نشان ہوتی ہے اوروحدت میں بقاء مضمر ہے وہ قومیں تباہ و برباد ہو ئیں جن کے پاس اجتماعی قیادت موجود نہ تھی اور وحدت کھو بیٹھی تھیں۔پاکستان میں بسنےوالے شیعیان حیدر کرار انتہائی خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعا لی ٰنے تحریک جعفریہ پاکستان کی شکل میں انہیں ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے جس کی برکتیں ہر خاص و عام کے لئے یکساں ہیں ۔یہ پلیٹ فارم ہماری وحدت کا ضامن ہے اور دشمنان کی سازشوں کو ناکام بنانے کا وسیلہ بھی ہے ہماری قومی زندگی میں بڑے بڑے بحران آتے رہے اور دشمن نے ملت جعفریہ کو مٹانے کے لئے کئی حربےآزمائے۔ ملت جعفریہ کے خلاف سازشوں کے طوفان کھڑے کیے گئے مگر تحریک جعفریہ کی با بصیرت اور روشن فکرقیادت اور اس کے مخلص اور متعہد کارکنان ان سازشوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹے رہے اور قوم و ملت کے وقار میں اضافہ کرتے رہے پاکستان کی سلامتی اور استحکام میں اس جماعت نے عملی کردار ادا کرکے اپنی مسلمہ حیثیت اور وجود کو دوست و دشمن سب سے تسلیم کرایا۔

تحریک جعفریہ کی تاسیس

یوں تو ملت تشیع نے قیام پاکستان کے بعد انفرادی سطح پر اس ملک کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جزوی طور پرتشیع اور مذہب جعفریہ کو در پیش مسائل کے حل کے لئےبھر پور سعی کی۔مختلف تنظیموں،انجمنوں،شیعہ کانفرنس(۱) اور ادارہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان ۲ وغیرہ کے نام سے کوششیں ہوتی رہیں۔اس کے بعد مرحوم علامہ سید محمد دہلوی کی قیادت میں شیعہ مطالبات کمیٹی کا وجود عمل میں آیا ۳۔لیکن ۱۲ آپریل ۱۹۷۹ م سے باقاعدہ جماعتی سطح پر منظم انداز میں قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی قیادت میں کا م کا آغاز کیا۔

تاسیس کا سبب

اس کے قیام کا بنیادی سبب یہ تھا کہ مرحوم ضیاءالحق نے اسلامائزیشن کا اعلان کیا اور بعض مبہم اعلانات کئے جن سے اہل تشیع میں خدشات پیدا ہوئے کہ ان پر ایک مخصوص فقہ اور نظریات مسلط کئے جا رہے ہیں اس طرح قانون سازی میں اپنے

نصب العین

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک متقی اور مدبر عالم دین کی قیادت میں انسانیت کے لئے دین اسلام کی صداقتوں کو اجاگر کرنا نیز نظام زندگی کو اسلامی عدل کی بنیادوں پر استوار کرنا۔۷

اغراض و مقاصد

۱۔ پاکستان میں ہر سطح پر اسلام کے عادلانہ نظام کے قیام کی کوشش۔

۲۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تمام موجودہ اور آئندہ نافذ ہونے والے دستور و قوانین میں تمام اسلامی مکاتیب فکر کے لئے ان کے مسلمات کے مطابق قانون سازی بالخصوص اہل تشیع کے لئے فقہ جعفریہ کے مطابق قوانین کے نفاذ کی جدوجہد۔

۳۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد کنونشن ۱۹۸۰

تحریک کوکسی گروہ ،فرقہ، جماعت یا مسلک کے خلاف قرار دینا یا اس کا مقصد پورے ملک پر فقہ جعفریہ کا نفاذ ،قرار دینا سراسر زیادتی ہے ۔جہاں تک نفاذ اور پرسنل لاء کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں تحریک کا موقف ہے کہ مسلمانوں کی کوئی فقہ ایسی نہیں ہے جو یہ لازم قرار دیتی ہو کہ اس فقہ کی حکمرانی میں دوسری فقہ کے لئے پرسنل لاء ہو گا۔۹

لیکن یہ چونکہ مارشل لاء دور کی ابتداء تھی اس وقت چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹراپنی اور اپنے آقاؤں کی پسند کااسلام نافذ کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا ملت جعفریہ کی قیادت نے اسے باور کرایا کہ پاکستان میں اہل تشیّع کی موجودگی میں استعماری طرز فکر کواسلام کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان کے مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ۔اور نہ ہی کسی پر اپنی مرضی مسلط کی جا سکتی ہے۔اس سلسلے میں ۶ جولائی ۱۹۸۰ م کو پارلیمنٹ ہاوس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نام کی تبدیلی

ابتداء میں تحریک کے اہداف محدود تھے۔پھر تحریک نے اپنے اہداف ومقاصد میں وسعت اختیار کی اور وسیع مفہوم میں ایک دینی جماعت کے عنوان سےکام شروع کیا۔ظاہری بات ہے جب اہداف وسیع ہوں گے تو نام میں بھی وسعت لانا ہو گی۔اسی وجہ سے تحریک کےمرکزی رہنماوں نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے الفاظ الگ کر کے تحریک جعفریہ کے نام سے کام جاری رکھا۔۲۱ اور قومی آزادی و استقلال کے تحفظ،پاکستان میں سامراج کے اثر ونفوذ کے خاتمے،ظلم،استحصال اور طبقاتی تفریق کے خاتمے،وطن عزیز میں عادلانہ نظام کے قیام، مختلف مکاتب فکر کے درمیان وحدت اور پاکستانی عوام کے درمیان بھائی چارے کے لئے جدوجہد شروع کی۔یہ وہ مرحلہ تھا جب تحریک جعفریہ نے انقلاب اسلامی ایران کے عالمگیر اور آفاقی پیغام سے استفادہ کیا اور رہنمائی حاصل کی یہ رہنمائی عالم اسلام میں بہت سی اسلامی تحریکوں نے حاصل کی جن کا تعلق اہل تشیّع سے نہیں ہے۲۲ کامیابیاں اور امتحانات کا یہ سلسلہ ابھی تسلسل کے ساتھ جاری وساری ہے۔جس کی انتہائی مختصر تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ

شُہداء کے لواحقین کی امداد

شہدائےراہ اسلام کی تعداد پاکستان میں ہزاروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان ایجوکیشنل کونسل

موجودہ ترقی یافتہ دورکے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اکیسویں صدی میں ملت جعفریہ کو با عزت بنانے کے لئے اور قوم کو جہالت سے نکالنے کے لئے علامہ ساجد علی نقوی کی ہدایت پر ایک آزاد اور غیر سیاسی ادارہ .C.E.P﴿پاکستان ایجوکیشنل کونسل﴾ کے نام سے قائم کیا گیا ہے۔جو ملک کے دیگر شہروں کے علاوہ شمالی علاقہ جات میں بھی محروم اور پسماندہ عوام کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں مصروف عمل ہے اس ادارے کے تحت تقریباً ۳۰ سکول چل رہے ہیں۔اس کونسل کے زیر انتظام مختلف تعلیمی اداروں کا قیام قومی زندگی کے لئے اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔تمام سکولوں کی تفصیل کے لئے تو علیحدہ ایک اور مقالے کی ضرورت ہے لیکن میں یہاں ایک دو کا ذکر کرتا ہوں۔شمالی علاقہ جات میں تحریک کے ایک سکول کا آسٹریلیا کے سیاحوں نے دورہ کیا تو پاکستان کے ایک گاؤں میں اتنا معیاری اسکول دیکھ کر حیران رہ گئے اور انہوں نے اپنے ملک کی ایک فلاحی آرگنائزیشن کے ذریعہ اس سکول کو پانچ لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔تحریک جعفریہ کی سرپرستی میں قائم انڈس ماڈل سکول ماڑی انڈس ضلع میانوالی کے لئے ۳۰ کنال اراضی خریدی گئی ہے۔ ۲۶

سیاسی فعالیت

پاکستانی سیاست میں تحریک جعفریہ نے ۱۹۸۸ م ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ روابط

اس وقت پاکستان کی تمام مقتدر سیاسی قوتوں سے تحریک کے روابط موجود ہیں ۔تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات اور قومی و بین الاقوامی مسائل پر گفت و شنید کا سلسلہ اس ملی پلیٹ فارم کے وجود کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتا ہے۔۳۷

اسٹوڈنٹس سے تعاون

نو نہالان ملت ہی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔اگر ان کی تربیت خالصتاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شعبہ جات

تحریک جعفریہ پاکستان ایک عالمی تحریک کے ساتھ ساتھ ایک باقاعدہ تنظیم بھی ہے۔جس کے یونٹ شہر سے لیکر دیہاتوں تک پھیلے ہوئے ہیں اس کے شعبہ جات پوری آب و تاب کے ساتھ قومی مشکلات و مسائل کے حل کے لئے مصروف ہیں۔ملازمین کا شعبہ ﴿اسلامک ایمپلائز﴾ اساتذہ کا شعبہ ﴿آئی ٹی او﴾نوجوانوں کا شعبہ﴿جعفریہ یوتھ﴾،اسٹوڈنٹس کا شعبہ ﴿جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن﴾،خواتین کی تنظیم،قانونی امداد کا شعبہ اور سب سے اہم تبلیغات اسلامی کا شعبہ ،یہ تمام شعبہ جات اپنی فعالیت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۴۰ ، ہر شعبہ کے لئے علیحدہ علیحدہ تفصیل کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرکزی اور سپریم کونسلز

تحریک جعفریہ پاکستان کا اعلی ٰ اختیاری ساز ادارہ مرکزی کونسل ہے جو ایک اسمبلی کی حیثیت رکھتا ہے۔جس کے ساڑھے تین سو سے زائد ممبران ہیں ملت کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد اس میں موجود ہیں۔سینٹرل کمیٹی پالیسیوں پر عمل درآمد کا ذمہ دار ادارہ جبکہ مرکزی کابینہ،صوبائی کابینائیں، ڈویژن، اضلاع، تحاصیل اوردیہی یونٹس مختلف سطح پر اس پلیٹ فارم سے شب و روز کام کرنے میں مصروف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سپریم کورٹ میں شیعہ حقوق کا تحفظ

دشمن نے مکتب محمدؐو آل محمدؑ کے خلاف اپنی سازشوں کو جاری رکھتے ہوئے قانونی میدان میں ملت جعفریہ کو چیلنج کیا اور اس کے ساتھ ہی دہشت گردی کے پے در پے سنگین واقعات بھی ہوئے استعمارکی کوشش تھی کہ تحریک جعفریہ کو فرقہ وارانہ جماعتوں میں کھڑا کرے ۔تحریک جعفریہ نے اس سلسلہ میں ارباب اقتدار کو متوجہ کرنے کےلئے انہیں یادداشتیں بھجوائیں۔صدر پاکستان،وزیراعظم، مسلح افواج کے سربراہ اور عدالت عالیہ کے چیف جسٹس صاحبان کو اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کے لئے ضروری تاکید کی۔تحریک کی اس کاوش کے نتیجہ نے عدالت عالیہ کو مجبور کیا کہ وہ اس دہشت گردی کے طوفان کے اسباب و محرکات کا جائزہ لے اور اپنی رائے یا فیصلہ صادر فرمائے۔اس ضرورت کے پیش نظر چیف جسٹس آف پاکستان نے ملت جعفریہ اور مکتب محمدو ؐآل محمدؑ کی ترجمانی کے لئے تحریک جعفریہ پاکستان کو سپریم کورٹ میں دعوت دی تحریک کی طرف سے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ سید افتخار حسین نقوی کی قیادت میں ایک وفد نے اپنے مؤقف کو حق ثابت کرنے کے لئے سپریم کورٹ کےچیف جسٹس کےپاس گئے۔وفد میں مرکزی نائب صدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دستک

دشمن جب بالکل مفلوج ہو گیا تو اس نے علمی و فکری دلائل اور بحث کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہاتھ میں اسلحہ لے لیا اورشیعیان حیدر کرار ؑکا بے دریغ خون بہایا۔جس سے ملک میں فرقہ وارانہ دہشت گردی شروع ہو گئی۔ملکی و غیر ملکی قوتوں کے پس پشت ہونے کی وجہ سے انہیں بے حد تقویت ملی ۔لیکن ملت جعفریہ نے صبر امام حسینؑ اور حکمت امام حسین ؑسے کام لیتے ہوئے اپنے مثبت اور قانونی اقدامات جاری رکھے۔اس سلسلے میں تحریک جعفریہ کی طرف سےحکومت کے ساتھ سربراہی ملاقاتیں،تحریری روابط، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام اصلی صفحات

تمام حقوق مادی و معنوی " تحریک جعفریہ پاکستان " برائے " ملک امداد علی گھلو " محفوظ ھیں!
بلاگ ڈیزئنر:ستارمحمدی